کتاب: اسلام اور مستشرقین - صفحہ 99
’’حضرت قتادہ نے ابوالحکم سے نقل کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جس نے کسی کتے کو رکھا سوائے کھیتی یا بھیڑ بکریوں یا شکار کی غرض سے تو اس کے اجر میں سے ایک قیراط روزانہ کم کیا جائے گا۔‘‘ پھر یہ بھی ہے کہ کھیتی کے کتے کا استثناء صرف حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا ہے بلکہ اور بھی صحابہ نے کیا ہے، جیساکہ ایک روایت کے الفاظ ہیں: عن سفیان بن أبی زہیر قال: سمعتُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول:«من اقتنی کلبا، لا یغنی عنہ زرعا ولا ضرعا، نقص من عملہ کل یوم قیراط»فقیل لہ: أنت سمعتَ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال: إی، ورَبِّ ہٰذا المسجد»21 ’’ سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جس نے کوئی کتا پالا جو اس کی کھیتی یا مویشیوں کے کام کا نہ ہو تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط اجر کم کیا جائے گا‘‘۔ سفیان بن ابی زہیر سے کہا گیا کہ واقعتا آپ نے یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! اس مسجد کے رب کی قسم! ‘‘ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: ’’عن عبد اللّٰہ بن مغفل أن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم : أمر بقتل الکلاب، ثم قال: مالہم وللکلاب؟ ثم رخص لہم فی کلب الزرع ‘‘22 ’’حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا اور کہا: یہ کتے ان کے کس کام کے ہیں؟ پھر آپ نے کھیتی کے کتے کے بارے میں رخصت دے دی۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کے بارے اس تبصرے کا ہر گز وہ مطلب نہیں ہے جو گولڈ زیہر نکال رہا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کہنے کا