کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 13

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : کہیں شراب تو نہیں پی رکھی؟ ماعزاسلمی رضی اللہ عنہ : نہیں۔(ایک آدمی نے بو سونگھ کر اس کی تصدیق کی) اس گفتگو کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعزاسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ یہ واقعہ مختلف الفاظ کے ساتھ حدیث مبارکہ کی تمام معروف کتابوں میںموجود ہے۔اب اس واقعہ کے دو تین بظاہر کھلے الفاظ کو بنیاد بناکر سارے کے سارے ذخیرہ احادیث کو مشکوک بنا دینا محض منفی سوچ اور علم حدیث سے لاعلمی اور جہالت کا ہی نتیجہ ہو سکتاہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ امت کی تعلیم اور رہنمائی کی خاطر اپنی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے ظاہر اور پوشیدہ گوشے کھول کر امت کے سامنے رکھ دینے کے ایثار اور احسان کا اعتراف کرنے کی بجائے انکار حدیث کی راہ اختیار کرنے والے حضرات ،اسلام کو ایک مکمل دین کی صورت میں امت تک پہنچانے کے فریضہ رسالت میں تنقیص پیدا کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر، ظلم ِعظیم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ آخر میں ہم مسائل طہارت کے حوالے سے والدین کی توجہ اس بات کی طرف دلاناضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں عموماًنابالغ بچوں کو بلوغت کی حد میں داخل ہونے سے قبل ان مسائل سے آگاہ کرنے کے بارے میں دو مختلف انتہائیں پائی جاتی ہیں۔ اولا: وہ طبقہ جو بلوغت سے قبل نہ صرف یہ کہ اپنے بچوں کوخودان مسائل سے آگاہ کرنے میں شرم اور جھجک محسوس کرتاہے بلکہ اپنے سامنے بچوں کی زبان سے ان مسائل کے بارے میں کوئی بات سننا پسند نہیں کرتا۔ ثانیا : وہ طبقہ جو ان مسائل میں اس قدر آزاد سوچ رکھتا ہے کہ یورپ کی طرح ان بچوں کو بلوغت سے قبل سکولوں میں ’’جنسی تعلیم‘‘دینے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ یہ دونوں راستے افراط وتفریط کے راستے ہیں،جو بچوں میں اخلاقی بگاڑ اور خرابیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔اعتدال کا راستہ یہی ہے کہ والدین بلوغت کے قریب پہنچتے ہوئے بچوں کے مسائل کا ازخود احساس کریں اور دینی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی رہنمائی کا فرض بگڑے ہوئے معاشرے اور ماحول پر چھوڑنے کی بجائے خود ادا کریں۔نہ تویہ مسائل بتانے میں شرم اور جھجک محسوس کرنی چاہئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیا دار تھے،لیکن اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا،نہ ہی یہ مسائل دریافت کرنے میں شرم یا جھجک محسوس کرنی چاہئے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھمیا صحابیات رضی اللہ عنھن کو ایسے مسائل دریافت کرنے پر کبھی روکا یا ٹوکا نہیں بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ کی خواتین کی اس بات پر تعریف فرمایاکرتی تھیں کہ انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں ،کہ مسائل دریافت کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتیں۔(بحوالہ مسلم)

  • فونٹ سائز:

    ب ب