کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 20

وَجْہِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہٖ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِیْہَا قَالَ :مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِیْلٍ تُحِبُّ اَنْ یُّنْفَقَ فِیْہَا اِلاَّ اَنْفَقْتُ فِیْہَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ لِیُقَالَ ہُوَجَوَادٌ فَقَدْ قِیْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارِ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’قیامت کے دن ایک شہید لایا جائے گا ۔اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور شہید ان نعمتوں کا اقرار کرے گا اللہ اس سے پوچھے گا تو نے ان نعمتوں کا حق ادا کرنے کے لئے کیا عمل کیا،وہ کہے گا’’میں نے تیری راہ میں جہادکیا حتی کہ شہید ہوگیا اللہ تعالیٰ فرمائے گاتو جھوٹ کہتا ہے تو نے بہادر کہلوانے کے لئے جنگ کی سو دنیا نے تجھے بہادر کہا ،پھر (فرشتوں)کو حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔اس کے بعد وہ آدمی لایا جائے گا جس نے خود بھی علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایااللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں گنوائے گا اور وہ (عالم) ان نعمتوں کا اقرار کرے گا تب اللہ اس سے پوچھے گا ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے تونے کیاعمل کیا۔ وہ عرض کرے گا میں نے خودبھی علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایااور تیری خاطر لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنایا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا ہے تو نے تو قرآن اس لئے پڑھ کر سنایا تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں سو دنیا نے تمہیں عالم اور قاری کہا پھر حکم ہوگااور اسے منہ کے بل اٹھا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔اس کے بعد ایک اور آدمی لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتیں گنوائے گا ،وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ میری نعمتیں پاکر تم نے کیا کام کئے؟وہ کہے گا کہ میں نے تیری رواہ میں ان تمام جگہوں پر مال خرچ کیا جہاں تجھ کو پسند تھا ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ تو جھوٹ کہتا ہے تونے تو مال صرف اس لئے خرچ کیا تاکہ لوگ تجھے سخی کہیں اور دنیا نے تجھے سخی کہا پھر حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل اٹھا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔اسے مسلم نے روایت کیاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب