کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 21

فَـــضْلُ الطَّہَـــــــــارَۃِ طہارت کی فضیلت (مسئلہ نمبر2) صفائی نصف ایمان ہے۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ :قَالَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ((اَلطَّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِیْزَانَ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ تَمْلَأَنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَالصَّلاَۃُ نُوْرٌ وَالصَّدَقَۃُ بُرْہَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ ، وَالْقُرْآنُ حَجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَیْکَ ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَایِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُہَا اَوْ مُوْبِقُہَا ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ حضرت مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’طہارت آدھا ایمان ہے۔ (ایک مرتبہ )الحمدللہ کہنا ترازو کو نیکیوں سے بھر دیتاہے۔سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنا زمین وآسمان کے درمیان ساری جگہ کو بھر دیتاہے ،نماز(دنیاوآخرت میں چہرے)کا نور ہے،صبرروشنی ہے،اور قرآن مجید (قیامت کے روز)تیرے حق میں یا تیرے خلاف گواہی دے گا۔ہر آدمی صبح اٹھتا ہے تو اس کی جان گروی ہوتی ہے جسے یاتووہ(نیکی کرکے)آزاد کرالیتاہے یا( گناہ کرکے)ہلاک کرتاہے۔اسے مسلم نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر3)وضو(طہارت)کرنے سے ہاتھ اور پاؤں کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب