کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 22

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الصُّنَابِحِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (( اِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُوْمِنُ فَتَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ فِیْہِ وَاِذَ اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ اَنْفِہٖ فَاِذَا غَسَلَ وَجْہَہٗ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ وَجْہِہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَشْفَارِ عَیْنَیْہِ فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ یَدَیْہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتَ اَظْفَارِ یَدَیْہِ فَاِذَا مَسَحَ بِرَأْسِہٖ خَرَجَتِ رَاسِہٖ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ اُذُنَیْہِ فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رِجْلَیْہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِ رِجْلَیْہِ ثُمَّ کَانَ مَشْیُہُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلاَتُہٗ نَافِلَۃً لَہٗ)) ۔رَوَاہُ النَّسَائِیُّ حضرت عبداللہ بن صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘‘جب مومن آدمی وضو کرکے کلی کرتاہے۔تو اس کے منہ کے (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔جب ناک صاف کرتا ہے تو ناک کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں،جب چہرہ دھوتا ہے تو چہرہ کے (صغیرہ)گناہ معاف ہو جاتے ہیں حتی کہ آنکھوں کی پلکوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیںپھر جب ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھ کے (صغیرہ)گناہ معاف ہو جاتے ہیں حتی کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ معاف ہو جاتے ہیںپھر جب آدمی سرکامسح کرتا ہے تو سر کے (صغیرہ)گناہ معاف ہو جاتے ہیںحتی کہ کانوں کے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔پھر جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے (صغیرہ)گناہ معاف ہو جاتے ہیںحتی کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، (وضو کرنے کے بعد )آدمی مسجد کی طرف آتا ہے اورنماز پڑھتاہے تو یہ سارے اعمال اس کی نیکی میں اضافہ (یعنی بلندی درجات)کا باعث بنتے ہیں۔اسے نسائی نے روایت کیاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب