کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 23

اَہْــــمِیَّۃُ الطَّہَـــــــــارَۃِ طہارت کی اہمیت (مسئلہ نمبر4)طہارت کے بغیرنماز نہیں ہوتی۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ ((لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ طُہُوْرٍ وَّلاَ صَدَقَۃٌ مِنْ غَلُوْلٍ))۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ۔اللہ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتااور مال غنیمت سے چوری کئے ہوئے مال کا صدقہ قبول نہیں کرتا۔اسے مسلم نے روایت کیاہے۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ((مِفْتَاحُ الصَّلاَۃِ الطُّہُوْرُ وَتَحْرِیْمُہَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُہَا التَّسْلِیْمُ)) ۔رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہْ (صحیح) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’طہارت نماز کی کنجی ہے ۔نماز کی ابتداء تکبیراور اختتام سلام پھیرنا ہے۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر5)پیشاب کرنے کے بعد طہارت سے غفلت برتنے سے عذاب قبر ہوتاہے۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((عَامَّۃُ عَذَابِ الْقَبْر فِیْ الْبَوْلِ فَاسْتَنْزِہُوْا مِنَ الْبَوْلِ ))رَوَاہُ الْبَزَّارُ وَالطَّبْرَانِیُّ وَالْحَاکِمُ وَالدَّارِقُطْنِیُّ (صحیح)

  • فونٹ سائز:

    ب ب