کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 38

(مسئلہ نمبر35)مجبوری کی حالت میں اہل کتاب کے برتن پانی سے دھو کر استعمال کرنے جائز ہیں۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ رضی اللہ عنہ اَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّا اَہْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی وَالْمَجُوْسِ فَلاَ نَجِدُ غَیْرَ اَنِیَتِہِمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا غَیْرَہَا فَاغْسِلُوْہَا بِالْمَائِ ثُمَّ کُلُوْا فِیْہَا وَاشْرَبُوْا))۔رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح) حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سفر کرنے والے لوگ ہیں،ہمارا گزر یہودونصارٰی اور مجوسیوں پر ہوتا ہے اور ان کے برتنوں کے علاوہ ہمیں کوئی برتن میسر نہیںآتا‘‘(اس بارے میں کیا حکم ہے)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اگر اہل کتاب کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملیں تو ان کو پانی سے دھو لو اور ان میں کھاؤپیو۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر36)جوتوں سے لگی نجاست جوتوں کو مٹی پر رگڑنے سے دور ہوجاتی ہے۔ (مسئلہ نمبر37)پانی کے علاوہ پاک مٹی بھی گندگی اور نجاست کو دور کرتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : (( اِذَا جَائَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیَقْلِبْ نَعْلَیْہِ فَلْیَنْظُرْ فِیْہِمَا فَاِنْ رَاَیْ خَبَثًا فَلْیَمْسَحْہُ بِالْاَرْضِ ثُمَّ لِیُصَلِّ فِیْہِمَا )) رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤُدَ (صحیح) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب کوئی آدمی مسجد میں آئے تو جوتے پلٹ کر دیکھ لے اگر جوتوں پر غلاظت لگی ہو تو انہیں زمین پر رگڑ کر صاف کرے پھر انہی جوتوں میں نماز پڑھ لے۔‘‘اسے احمد اور ابو داؤد نے روایت کیاہے۔ عَنْ اِمْرَاَۃٍ مِنْ بَنِی عَبْدِ الْاَشْہَلِ قَالَتْ : سَاَلْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْتُ اِنَّ بَیْنِیْ وَبَیْنَ الْمَسْجِدِ طَرِیْقًا قَذِرَۃً قَالَ :(( فَبَعْدَہَا طَرِیْقٌ اَنْظَفُ مِنْہَا ؟ )) قَلْتُ نَعَمْ قَالَ :

  • فونٹ سائز:

    ب ب