کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 40

(مسئلہ نمبر42)مردہ حلال جانور کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے۔ عَنْ مَیْمَوْنَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَرَّ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم رِجَالٌ مِّنْ قُرَیْشٍ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَہُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((لَوْ اَخَذْتُمْ اِہَابَہَا )) قَالُوْا اِنَّہَا مَیتَۃٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((یُطَہِّرُہَا الْمَائُ وَالْقَرَظُ ))۔رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤُدَ (حسن) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا،قریش کے کچھ لوگ مری ہوئی بکری کو مرے ہوئے گدھے کی طرح کھینچ کر لے جارہے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اگرتم اس مری ہوئی بکری کا چمڑہ اتار لیتے تو اچھا ہوتا‘‘لوگوں نے عرض کیا’’یہ مردارہے‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ چمڑے کو پانی اور کیکر کی چھال پاک کردیتے ہیں۔‘‘اسے احمد اور ابوداؤدنے روایت کیاہے۔ وضاحت : پانی اور کیکر کی چھال سے کھال رنگنے کو دباغت کہتے ہیں۔ (مسئلہ نمبر43) پیشاب کی نجاست پانی سے دور ہوجاتی ہے۔ (مسئلہ نمبر44)زمین خشک ہوکر خودبخود پاک ہوجاتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ :قَامَ اَعْرَابِیٌّ فَبَالَ فِیْ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَہُ النَّاسُ فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((دَعُوْہُ وَہَرِیْقُوْا عَلَی بَوْلِہٖ سَجْلاً مِنْ مَائٍ اَوْ ذَنُوْبًا مِنْ مَائٍ فَاِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُیَسِّرِیْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِیْنَ ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بدو نے پیشاب کردیا لوگ اسے مارنے کو دوڑے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اسے کچھ نہ کہو اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہادو کیوں کہ تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو۔اسے بخاری نے روایت کیاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب