کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 58

(مسئلہ نمبر94)شوہر کی اجازت سے حیض لانے یا حیض روکنے والی ادویات استعمال کرنا جائز ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ :(( لاَ تَحِلُّ لِلْمَرْاَۃِ اَنْ تَصُوْمَ وَزَوْجُہَا شَاہِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کوئی عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کی بغیر نفلی روزے نہ رکھے۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر95)دوران حیض بیوی کو طلاق دینا منع ہے۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنَّہُ طَلَّقَ اِمْرَاَتَہُ وَہِیَ حَائِضٌ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَسَاَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (( مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا ثُمَّ لْیُمْسِکْہَا حَتَّی تَطْہُرَ ثُمَّ تَحِیْضَ ثُمَّ تَطْہُرَ ثُمَّ اِنْ شَائَ اَمْسَکَ بَعْدُ وَاِنْ شَائَ طَلَّقَہَا قَبْلَ اَنْ یَمَسَّہَا فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِیْ اَمَرَ اللّٰہُ اَنْ یُطَلَّقَ لَہَا النِّسَائُ)) ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’عبداللہ سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کرے اور حیض سے پاک ہونے تک اسے اپنے پاس رکھے،پھر جب حیض آئے اور اس سے پاک ہوجائے،تب چاہے تو صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے ، چاہے تو اپنے پاس رکھے۔یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کا کہ عورت کو ان کی عدت پر طلاق دو۔اسے بخاری نے روایت کیاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب