کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 68

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ اَسْمَائَ سَاَلَتِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِیْضِ ؟ فَقَالَ (( تَاخُذُ اِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَہَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَاسِہَا فَتَدْلُکُہُ دَلَکًا شَدِیْدًا حَتّٰی تَبْلُغَ شُئُوْنَ رَاْسِہَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَاخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً فَتَطَہَّرُ بِہَا )) فَقَالَتْ اَسَمَائُ وَکَیْفَ اَتَطَہَّرُ بِہَا ؟ فَقَالَ (( سُبْحَانَ اللّٰہِ تَطَہَّرِیْنَ بِہَا)) فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کَاَنَّہَا تُخْفِیْ ذٰلِکَ تَتَبَّعِیْْنَ اَثَرَ الدَّمِ وَسَاَلَتْہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ فَقَالَ (( تَاخُذُ مَائً فَتَطَہَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّہُوْرَ اَوْ تُبْلِغُ الطُّہُوْرَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَاْسِہَا فَتَدْلُکُہُ حَتَّی تَبْلُغَ شُئُوْنَ رَاْسِہَا ثُمَّ تَفِیْضُُ عَلَیْہَا الْمَائَ )) فَقَالَتْ : عَائِشَۃُ : نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْاَنْصَارِ لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّّ الْحَیَائُ اَنْ یَتَفَقَّہْنَ فِیْ الدِّیْنِ ۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پہلے پانی میں بیری کے پتے ڈال کر اچھی طرح حیض کے خون سے پاکی حاصل کرلوپھر سر پر پانی ڈالو۔اورخوب اچھی طرح ملو تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ پھر سارے بدن پر پانی بہاؤپھر خوشبو لگی ہوئی روئی کا پھاہا لے کر اس سے پاکی کرو۔‘‘حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا روئی کے پھاہے سے پاکی کس طرح۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’سبحان اللہ!پاکی کرو۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آہستہ سے بتایاکہ حیض کی جگہ پر لگادے۔پھراسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کا سوال کیاتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پہلے پانی سے اچھی طرح شرمگاہ دھونی چاہئے۔پھر سر پر اچھی طرح پانی ڈال کر ملناچاہئے تاکہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر پورے بدن پر پانی ڈالو۔‘‘حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بھی کیا خوب عورتیں ہیں کہ دین کی بات پوچھنے میں شرم محسوس نہیں کرتیں۔اسے مسلم نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر114)عورت کے سر کے بالوں کی جڑوں میں چوٹی کھولے بغیر پانی پہنچ سکے توچوٹی کھولنا ضروری نہیں لیکن اگر نہ پہنچ سکے تو کھولنا ضروری ہے۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ :قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنِّیْ اِمْرَاَۃٌ اَشُدُّ ضَفْرَ رَاْسِی اَفَاَنْقُضُہُ لِغُسْلِ الْجَنَابَۃِ ؟ قَالَ (( لاَ اِنَّمَا یَکْفِیْکِ اَنْ تَحْثِیَ عَلَی رَاْسَکِ ثَلاَثَ

  • فونٹ سائز:

    ب ب