کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 73

مُحَجَّلِیْنَ مِنْ اَثَرِ الْوُضُوْئِ۔))رَوَاہُ مُسْلِمٌ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کہ میرا حوض عدن اورایلہ کے فاصلے سے بھی زیادہ بڑا ہے اس کاپانی برف سے زیادہ سفید شہد اور دودھ سے زیادہ میٹھا ہے اس پر رکھے ہوئے برتن تعداد میں (آسمان کے)تاروں سے بھی زیادہ ہیں(قیامت کے روز)میں(دوسری امت کے)لوگوں کو اس طرح اپنے حوض پر آنے سے روکوں گاجس طرح کوئی آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے حوض پر آنے سے روکتا ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اس روز (دوسری امتوں کے لوگوں میں )پہچان لیں گے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ہاں ،وضو کے باعث تمہارے ہاتھ پاؤں اس قدر روشن اور چمکدارہوں گے کہ ایسے نشان کسی دوسری امت کے لوگوں کے لئے نہیں ہوں گے۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر126)وضو کا مسنون طریقہ یہ ہے۔ عَنْ حُمْرَانَ أَنَّ عُثْمَانَ رضی اللہ عنہ دَعَا بِوُضُوْئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہٗ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُسْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہٖ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی اِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوْئِیْ ہٰذَا۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ حضرت حمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کے لئے پانی منگایا ۔ پہلے اپنی ہتھیلیاں تین مرتبہ دھوئیں، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ۔پھر اپنا منہ تین دفعہ دھویا۔ اس کے بعد اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا اسی طرح بایاں ہاتھ کہنی تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر سر کا مسح کیا۔ مسح کے بعد اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین مرتبہ دھویا اور اسی طرح بایاں پائوں ٹخنے تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر فرمایا’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھاہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیاہے۔ وضو سے قبل نیت کے مروجہ الفاظ’نَوَیْتُ اَنْ تَوَضَّأُ‘ادا کرنا سنت سے ثابت نہیں۔ مسئلہ نمبر127))

  • فونٹ سائز:

    ب ب