کتاب: طہارت کے مسائل - صفحہ 85

عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ اَصَابَہُ اِحْتِلَامٌ فَاُمِرَ بِالْاِغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَکُزَّ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ : ((قَتَلُوْہُ قَتَلَہُمُ اللّٰہُ اَوَلَمْ یَکُنْ شِفَائَ الْعَیِّ السُّؤَالُ )) ۔رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ وَابْنُ مَاجَہْ وَالْحَاکِمُ ۔ (حسن) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک آدمی کو سر پر زخم ہوگیا پھر اسے احتلام کی شکایت ہوئی،لوگوں نے اسے غسل کرنے کا حکم دیااس نے غسل کیا تو اس کی تکلیف اور بڑھ گئی اور وہ فوت ہوگیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’لوگوں کو اللہ غارت کرے ،انہوں نے اسے مار ڈالا،لاعلمی کا علاج مسئلہ دریافت کرنے میں ہے۔‘‘اسے ابوداؤد،ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیاہے۔ (مسئلہ نمبر162)شدید سردی کی وجہ سے بھی تیمم کیا جاسکتاہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضی اللہ عنہ اَنَّہُ لَمَّا بُعِثَ فِیْ غَزْوَۃِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ قَالَ :احْتَلَمْتُ فِیْ لَیْلَۃٍ بَارِدَۃٍ شَدِیْدَۃِ الْبَرْدِ فَاَشْفَقْتُ اِنِ اغْتَسَلْتُ اَہْلِکُ فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ بِاَصْحَابِیْ صَلاَ ۃَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَکَرُوْا ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ : (( یَاعُمْرُو صَلَّیْتَ بِاَصْحَابِکَ وَاَنْتُ جُنُبٌ ؟ )) فَقُلْتُ ذَکَرْتُ قَوْلَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ { وَلاَ تَقْتُلُوْ اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا } فَتَیَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّیْتُ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا ۔رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤُدَ وَالدَّارَ قُطْنِیُّ (صحیح) حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے جنگ سلاسل پر بھیجا گیا،تو راستے میں احتلام ہو گیا۔رات شدید سرد تھی،غسل کرنے سے ہلاکت کا خوف تھا،چنانچہ میں نے تیمم کرکے صبح کی نماز پڑھا دی جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبتایاگیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اے عمرو!تم نے حالت جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھادی۔‘‘میں نے عرض کیا’’مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آگئی’’ لوگو!اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اللہ تم پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘(سورہ النساء،آیت نمبر29)اور میں نے تیمم کرکے نماز پڑھادی۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرادیئے اور کچھ نہیں فرمایا۔اسے احمد، ابوداؤد اور دار قطنی

  • فونٹ سائز:

    ب ب