کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 101

وضاحت : آیت مسئلہ نمبر139کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ نمبر157:طلاق کے بعد ماں اور باپ دونوں بچے کو اپنے پاس رکھنے پر اصرار کریں تو دونوں کو آپس میں قرعہ ڈال کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ مسئلہ نمبر158:بچہ اگر سمجھدار ہو تو فیصلہ خود بچے کی پسند پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ اَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ زَوْجِیْ یُرِیْدُ اَنْ یَذْہَبَ بِاِبْنِیْ وَقَدْ سَقَانِیْ مِنْ بِئْرِ اَبِیْ عِنَبَۃَ وَ قَدْ نَفَعَنِیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم : اِسْتَہِمَا عَلَیْہِ، فَقَالَ زَوْجُہَا : مَنْ یُّحَاقُنِیْ فِیْ وَلَدِیْ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ((ہٰذَا اَبُوْکَ وَ ہٰذَہٖ اُمُّکَ فَخُذْ بِیَدِ اَیِّہِمَا شِئْتَ )) فَاَخَذَ بِیَدِ اُمِّہٖ فَانْطَلَقَتْ بِہٖ ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (صحیح) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا خاوند (طلاق کے بعد) چاہتا ہے کہ میرا بیٹا مجھ سے چھین لے حالانکہ وہ مجھے ابو عنبہ کے کنویں سے پانی لا کے دیتا ہے اورمجھے (بعض دوسرے) فائدے پہنچاتا ہے ۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’قرعہ ڈال لو۔‘‘ شوہر نے کہا ’’میرے بیٹے کے معاملہ میں کون مجھ سے جھگڑ سکتا ہے؟‘‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لڑکے سے) فرمایا ’’یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، دونوں میں سے جس کا چاہو ہاتھ پکڑ لو۔‘‘لڑکے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر159:ماں کی طلاق یا وفات کے بعد خالہ بچے کی تربیت کرنے کی زیادہ حقدار ہے۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ ابْنَۃَ حَمْزَۃَ صلی اللہ علیہ وسلم اخْتَصَمَ فِیْہَا عَلِیٌّ وَ جَعْفَرٌ وَ زَیْدٌ ث فَقَالَ عَلِیٌّ : اَنَا اَحَقُّ بِہَا ہِیَ ابْنَۃُ عَمِّیْ ، وَقَالَ جَعْفَرٌ : اِبْنَۃُ عَمِّیْ وَ خَالَتُہَا تَحْتِیْ وَ قَالَ زَیْدٌ : اِبْنَۃٌ اَخِیْ ، فَقَضٰی بِہَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لِخَالَتِہَا وَ قَالَ (( اَلْخَالَۃُ بِمَنْزِلَۃِ الْاُمِّ )) مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ

  • فونٹ سائز:

    ب ب