کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 17

دوسری طلاق: پہلی طلاق سے رجوع کے بعد دوبارہ کسی وقت (مثلًا چند دن ،چند ہفتے،چند ماہ یا چند سال بعد) فریقین میں پھراختلافات پیدا ہوجائیں نوبت طلاق تک پہنچ جائے اور شوہر بیوی کو قاعدے کے مطابق حیض ختم ہونے کے بعد حالت طہر میں جماع کئے بغیر دوسری طلاق دے دے اس دوسری طلاق کے بعد بھی شریعت نے مرد کو دوران عدت (یعنی تین ماہ )میں رجوع کا حق دیا ہے اس لئے اس دوسری طلاق کو بھی رجعی طلاق ہی کہا جاتا ہے شوہر دوران عدت (تین ماہ )میں رجوع نہ کرے تو تین طہر یا تین حیض کے بعد دونوں میاں بیوی میں مستقل علیحدگی ہوجائے گی ،یہ علیحدگی بھی چونکہ دوسری رجعی طلاق کے بعد ہوئی ہے لہٰذا اس طلاق کے بعد بھی یہ مرد اور عورت آئندہ کبھی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو بلا تردد کر سکتے ہیں۔دو طلاقوں سے علیحدگی کی مزید وضاحت درج ذیل نقشہ سے ہوجائے گی۔ پہلا ماہ(رجوع نہیں کیا) دوسراماہ(رجوع نہیں کیا) تیسرا ماہ(رجوع کرلیا) پہلا ماہ(رجوع نہیں کیا) دوسراماہ(رجوع نہیں کیا) تیسرا ماہ(رجوع کرلیا) دوسری رجعی طلاق کی عدت (تین ماہ )گزرنے کے بعد عورت نکاح ثانی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے خواہ سابق شوہر سے یا کسی دوسرے مرد سے۔ (ج)تین طلاقوں سے علیحدگی کی جائز صورت: پہلی طلاق میاں بیوی کے درمیان نکاح کے بعد پہلی مرتبہ (مثلًا1950ء میں )اختلافات اس حد تک بڑھ جائیں کہ طلاق کی نوبت آجائے اور شوہر قاعدے کے مطابق بیوی کو حیض ختم ہونے کے بعد حالت طہر میں جماع کئے بغیر پہلی رجعی طلاق دے دے اور دوران عدت (تین طہر یا تین حیض )کسی بھی وقت رجوع کرلے اور میاں بیوی معمول کی زندگی بسر کرنے لگیں ،پہلی رجعی طلاق سے رجوع کے بعد کچھ مدت (مثلًا چند دن ،چند ہفتے ،چند ماہ یا چند سال کے بعد مثلًا1953ء میں )فریقین میں پھر اختلافات پیدا ہوجائیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے شوہر قاعدے کے مطابق بیوی کو حیض ختم ہونے کے بعد حالت طہر میں دوسری رجعی طلاق دے دے اور دوران عدت (تین طہر یا تین حیض )میں شوہر کسی بھی وقت رجوع کرلے اور میاں بیوی معمول کی زندگی بسر کرنا شروع کردیں لیکن

  • فونٹ سائز:

    ب ب