کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 19

حالات میں مرد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے خلع کا حق دیا ہے خلع دینے کے لئے شریعت نے شوہر کو بیوی سے کچھ معاوضہ لینے کی اجازت بھی دی ہے جو کہ کم و بیش عورت کے حق مہر کے برابر ہونا چاہئے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ثابت بن قیس کی دینداری اور اخلاق میں عیب نہیں نکالتی بلکہ مجھے شوہر کی ناشکری کے گناہ میں مبتلا ہونا پسند نہیں لہٰذا مجھے خلع دلوا دیجئے ۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا’’کیا تم ثابت کا حق مہر میں دیا ہوا باغ واپس کرنے کو تیار ہو۔ ‘‘عورت نے عرض کیا ’’ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !‘‘ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ’’اپنا باغ واپس لے لو اور اسے آزاد کر دو ۔‘‘(بخاری) مذکورہ حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے خلع کا معاملہ طے نہ کر سکیں تو عورت شرعی عدالت کی طرف رجوع کر سکتی ہے اور عدالت کو شرعًا اس بات کا پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ عورت کو مرد سے خلع دلا کر آزادکرا دے ۔یہ بات یاد رہے کہ شرعی معاملات میں کافر جج یا کافر عدالت کے فیصلے نافذ العمل نہیں ہوں گے ایسے ملک یا ایسے علاقے میں جہاں شرعی عدالت موجود نہ ہو علماء کی جماعت یاعام متقی اور پرہیزگار مسلمانوں کی پنچایت فیصلہ کر دے تو وہ نافذ العمل ہوگا تاہم مستقبل میں کسی فتنے سے محفوظ رہنے کے لئے غیر مسلم عدالت سے ڈگری حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ خلع کی عدت ایک ماہ ہے اس کے بعد عورت جہاں چاہے دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ بیک وقت تین طلاقیں: نکاح کے بعد فریقین حتی الامکان ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت نبھانے کی کوشش کرتے ہیں میاں بیوی میں باہمی اختلافات تو روز مرہ کے معمول کی بات ہے جسے سمجھ دار میاں بیوی حتی الامکان برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب معاملہ اختلافات سے بڑھ کر نفرت ،عداوت اور انتقام تک پہنچ جائے تو پھر نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے طلاق کے معاملے میں سوچ بچار ،سنجیدگی اور تحمل سے کام لینے والے مرد کم ہی ہوتے ہیں اور شرعی احکام کا علم رکھنے والے تو اور بھی کم ہوتے ہیں بیشتر لوگ لڑائی جھگڑے اور غصہ کے دوران ہی طلاق دے ڈالتے ہیں اور شرعی احکام سے ناواقف ہونے کی بناء پر ایک ہی وقت بیک وقت تین (یا اس سے بھی زائد )مرتبہ طلاق کا لفظ کہہ ڈالتے ہیں جو کہ نہ صرف خلاف شرع ہے بلکہ بہت بڑا گناہ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کے مارے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ’’میری موجودگی میں کتاب اللہ سے یہ مذاق ‘‘ایک شخص نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اسے قتل کردوں؟‘‘(نسائی) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مبارک سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شریعت اسلامیہ میں بیک وقت تین طلاقیں دینا کتنا بڑا گناہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت خاندان کو تباہی سے بچانے کے لئے جس مصلحت اور حکمت کو بروئے کار لانا چاہتی ہے بیک وقت تین طلاقیں دینے والا شخص نہ صرف ان مصلحتوں اور حکمتوں کو پامال کر ڈالتا ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریحاً نافرمانی کا مرتکب بھی ٹھہرتاہے تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاقیں دینے والے شخص پر شدید ناراضی کے باوجود تین طلاقوں کو تین شمار نہیں فرمایا بلکہ تین کی بجائے ایک ہی شمار فرما کر امت کو بہت بڑے فتنے سے محفوظ فرمادیا ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں دو برس تک یک بارگی تین طلاقیں دینے والے شخص کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار کی جاتی تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے جلد بازی سے کام لینا شروع کردیا ہے حالانکہ انہیں رخصت دی گئی تھی لہٰذا تین طلاقیں نافذ کردینا مناسب ہے چنانچہ انہوں نے فافذ فرمادیں (مسلم ،کتاب الطلاق الثلاث)

  • فونٹ سائز:

    ب ب