کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 20

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ اور دونوں خلفائے راشدین کے عمل سے درج ذیل تین باتیں واضح ہو جاتی ہیں (الف) بیک وقت تین طلاقیں دینا شریعت اسلامیہ میں بہت بڑا گناہ ہے (ب) یک بارگی تین طلاقیں دینے والے کو گناہ گار ٹھہرانے کے باوجود شریعت اسلامیہ اسے طلاق کے باقی دو مواقع سے محروم نہیں کرتی اور تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق شمار کرتی ہے (ج) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو یک بارگی تین طلاقیں دینے سے روکنے کے لئے بطور سزا تین کو تین ہی نافذ فرمادیاتھا لیکن یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا شریعت اسلامیہ کا مستقل قانون نہیں تھا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے طلاق کے احکام بیان کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی ہے فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ(1:65)یعنی عورتوں کو ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طلاق دینے کے بعد جو عدت (یعنی تین ماہ )مقرر کی گئی ہے وہ پوری کرو اور پھر دوسری طلاق دو اسی طرح دوسری طلاق کی عدت پوری کرنے کے بعد تیسری طلاق دو جو شخص بیک وقت تین طلاقیں دیتا ہے اس نے گویا دوسری اور تیسری طلاق کی عدت پوری کئے بغیر طلاق دے دی جبکہ پہلی طلاق کے بعد رجوع یا تین ماہ کا انتظار کرنا ضروری تھا لہٰذا بیک وقت تین طلاقیںدینے کی صورت میں پہلی طلاق تو ہوجاتی ہے دوسری اور تیسری طلاق وقت مقررہ سے قبل دینے کی وجہ سے نافذ نہیں ہوتی اس کی مثال بالکل ایسے ہے جیسا کہ نماز کے بارے میں حکم ہے اِنَّ الصَّلاَۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا ’’بے شک نماز مقرر وقت پر ادا کرنا اہل ایمان پر فرض کی گئی ہے۔‘‘ (سورہ نساء ،آیت نمبر 103 )

  • فونٹ سائز:

    ب ب