کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 28

نیوگ قانون یہ ہے کہ اگر خاوند اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ ہو تو اسے اپنی بیوی کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ اچھی نسل کے مرد سے ملاپ کرکے اپنے خاوند کے لئے اولاد پیدا کرے لیکن بیوی اس بیاہے ’’عالی حوصلہ خاوند‘‘ کی خدمت میں کمربستہ رہے اسی طرح اگر عورت اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں تو اسے اپنے خاوند کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ کسی بیوہ عورت سے ملاپ کرکے اولاد پیدا کرلے ۔ عیسائیت اور ہندو دھرم کے مذکورہ قوانین میں افراط و تفریط انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہے ۔غیر مسلموں کے افراط و تفریط پر مبنی یہی وہ خود ساختہ قوانین اور ضابطے ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید ارشادفرماتا ہے وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالْاَغْلاَلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ(157:7)’’یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر ان سے وہ بوجھ اتار دیئے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ (خود ساختہ )بندشیں کھول دیں جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے ۔‘‘(سورہ اعراف ،آیت نمبر 157) اسلام چونکہ اللہ تعالی کا نازل کردہ دین ہے جسے حکیم اور خبیر ذات نے انسانوں کے مزاج اور فطرت کے عین مطابق بنایا ہے اس لیے اس میں نہ افراط ہے نہ تفریط بلکہ ہر حکم میں ایک ایسی شان اعتدال ہے کہ اس شان اعتدال تک کسی عقل انسانی کی رسائی ممکن ہی نہیں۔ اسلام نہ تو طلاق پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے کہ فریقین کا چین و سکون تباہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے میاں بیوی ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں تو کرتے رہیں گھر مسلسل میدان کارزار بنتا ہے تو بنا رہے اور نہ ہی طلاق کی کھلی چھٹی دیتا ہے کہ جو شخص جب چاہے طلاق کا لفظ منہ سے نکال کر عورت سے علیحدگی اختیار کرلے ایک طرف تو اسلام طلاق کو سب سے بڑا گناہ قرار دے کر اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے مرد اور عورت پر ایسی اخلاقی اور قانونی پابندیاں عائد کرتاہے کہ اگر فریقین میں نباہ کرنے کا کچھ بھی داعیہ موجود ہو تو فریقین طلاق کی بجائے نکاح کے بندھن میں بندھے رہنے کو ترجیح دیں دوسری طرف اگر فریقین میں نفرت اور عداوت اس درجہ تک پہنچ گئی ہو کہ میاں بیوی یا دونوں میں سے کسی ایک کی زندگی اجیرن ہو چکی ہو تو اسلام مرد کو ہی نہیں عورت کو بھی علیحدگی حاصل کرنے کا حق دیتا ہے حتی کہ اگر مرد از خود عورت کو خلع دینے کے لئے تیار نہ ہو تو عورت کو شرعی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق بھی دیا گیا ہے جو کہ دونوں میاں بیوی کو حکماً علیحدہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اسلام کی یہی شان اعتدال دوسرے احکام میں بھی دیکھی جاسکتی ہے مثلاً ایک طرف قیام اللیل کی اتنی رغبت دلائی کہ ارشاد مبارک ہے ’’فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز

  • فونٹ سائز:

    ب ب