کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 35

اَلنِّیَّــــــــــۃُ نیت کے مسائل مسئلہ نمبر 1 اعمال کا دارومدارنیت پر ہے۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ : اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَا نَوَی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ اِلَی الدُّنْیَا یُصِیْبُہَا اَوْاِلیَ امْرَاَۃٍ یَنْکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ اِلَی مَا ہَاجَرَ اِلَیْہِ ۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی،لہٰذا جس نے دنیا حاصل کرنے کی نیت سے ہجرت کی(اسے دنیا ملے گی)یا جس نے عورت حاصل کرنے کی نیت سے ہجرت کی(اسے عورت ہی ملے گی)پس مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لئے سمجھی جائے گی جس غرض کے لئے اس نے ہجرت کی ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 :کنائی الفاظ ، جن میں طلاق کی نیت ہو، ادا کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے ورنہ نہیں۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ ابْنَۃَ الْجَوْنِ لَمَّا اُدْخِلَتْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ دَنَا مِنْہَا قَالَتْ : اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ ، فَقَالَ لَہَا : ((لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِیْمٍ إِلْحَقِیْ بِأَہْلِکِ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جون کی بیٹی (اسماء جب نکاح کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (صحبت کرنے کے لئے) اس کے قریب ہوئے توکہنے لگی ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تو نے عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے ، لہٰذا اپنے گھر والوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب