کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 42

’’اگر (کسی شوہر نے اپنی بیوی کو تیسری) طلاق دے دی تو وہ عورت پھر اس کے لئے حلال نہ ہو گی اِلاَّ یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے (آزاد مرضی سے) طلاق دے تب اگر پہلا شوہر اور یہ (مطلقہ) عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے تو ان کے لئے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کی مقررکردہ حدیں ہیں جنہیں وہ (ان) لوگو ں کی ہدایت کے لئے واضح کررہا ہے (جو اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام ) جانتے ہیں۔‘‘ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر230) مسئلہ نمبر18:اگر مرد چاہے تو عورت کو ازدواجی زندگی ختم کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔ اس صورت میں عورت کا فیصلہ قطعی طور پر نافذ العمل ہوگا۔ { یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَ اُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلاً } (28:33) ’’اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہو اگر تم دنیا اوراس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کردوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکوکار ہیں اللہ نے ان کے لئے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (سورہ احزاب ، آیت نمبر28) مسئلہ نمبر19:میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کی صورت میں شرعی عدالت میں جانے سے پہلے اپنے اپنے خاندان میں سے ایک ایک نیک اور معاملہ فہم آدمی کو بطور ثالث مقرر کرکے مصالحت کرنے کا حکم ہے۔ { وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا }(35:4) ’’اور اگر تم لوگوں کو میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک ثالث عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں (ثالث یا زوجین اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان موافقت کی صورت پیدا فرما دے گا اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔‘‘ (سورہ نساء ، آیت نمبر35) مسئلہ نمبر20:ایک سے زائد بیویاں رکھنے والے شوہر سے اگر کسی بیوی کو کسی وجہ سے بدسلوکی اوربے رخی کا خطرہ ہو اور وہ بیوی اپنے حقوق چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہو تو شوہر کو اسے طلاق نہ دینے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ مسئلہ نمبر21:میاں بیوی کے درمیان بگاڑ کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ خدا ترسی کا طرز عمل اختیار کرنے کا حکم ہے۔ { وَ اِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِنْ م بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًا ط وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ ط وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا }(128:4) ’’جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی(کچھ حقوق کی کمی وبیشی پر) آپس میں صلح کرلیں، صلح بہرحال (علیحدگی سے) بہتر ہے۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلد مائل ہوجاتے ہیں لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو، تو یقین رکھو اللہ تمہارے اس (نیک) طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا۔‘‘ (سورہ نساء ، آیت نمبر128)

  • فونٹ سائز:

    ب ب