کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 50

صِفَاتُ الزَّوْجَۃِ الْاَمْثَلَۃِ مثالی بیوی کی خوبیاں مسئلہ نمبر43:کنواری ،شریں گفتار ،خوش مزاج ،قناعت پسند ،شوہر کا دل لبھانے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت بہترین رفیقہ حیات ہے۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَالِمِ بْنِ عُتْبَۃَ بْنِ عَدِیْمِ بْنِ سَاعَدَۃِ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((عَلَیْکُمْ بِالْأَبْکَارِ فَاِنَّہُمْ اَعْذَبُ اَفْوَاہًا وَاَنْتَقُ اَرْحَامًا اَرْضٰی بِالْیَسِیْرِ)) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ(صحیح) حضرت عبدالرحمٰن بن سالم بن عتبہ بن عدیم بن ساعدہ انصاری اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کنواری عورتوں سے نکاح کرو کہ وہ شیریں گفتار ہوتی ہیں زیادہ بچے جنتی ہیں اور تھوڑی چیز پر جلد خوش ہو جاتی ہیں۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ غَزْوَۃٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا کُنَّا قَرِیْبًا مِنَ الْمَدِیْنَۃِ، قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ! اِنِّیْ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ ((تَزَوَّجْتَ ؟ )) قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ ((أَ بِکْرًا اَمْ ثَیِّبًا؟)) قُلْتُ : بَلْ ثَیِّبًا ، قَالَ ((فَہَلاًّ بِکْرًا تُلاَعِبُہَا وَ تُلاَعِبُکَ )) مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم واپس ہوئے تو مدینہ کے قریب میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے نئی نئی شادی کی ہے۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ’’کیا تو نے شادی کی ہے؟‘‘میں نے عرض کیا ’’ہاں!‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کنواری سے

  • فونٹ سائز:

    ب ب