کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 55

اَہَمِیَّۃُ حُقُوْقِ الزَّوْجِ شوہر کے حقوق کی اہمیت مسئلہ نمبر52:جو عورت اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی وہ اللہ کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (( وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لاَ تُؤَدِّی الْمَرْأَۃُ حَقَّ رَبِّہَا حَتّٰی تُؤَدِّیَ حَقَّ زَوْجِہَا وَ لاَ سَأَلَہَا نَفْسَہَا وَ ہِیَ عَلٰی قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْہُ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ (صحیح) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے عورت اس وقت تک اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے عورت اگر پالان (گھوڑے یا اونٹ پر بیٹھنے کے لئے استعمال کی جانے والی گدی )پر سوار ہو اور مرد اسے بلائے تو عورت کو انکار نہیں کرنا چاہئے۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر53:کسی عورت کے لئے اپنے شوہر کے حقوق کما حقہ ادا کرنا ممکن نہیں۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ (( حَقُّ الزَّوْجِ عَلٰی زَوْجَتِہٖ اَنْ لَوْ کَانَتْ بِہٖ قَرْحَۃٌ فَلَحَسَتْہَا مَا اَدَّتْ حَقَّہٗ )) رَوَاہُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حَبَّانَ وَابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَالدَّارُ قُطْنِیُّ وَ الْبَیْہَقِیُّ (صحیح) حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’شوہر کا بیوی پر حق اس قدر ہے کہ اگر شوہر کو زخم آ جائے اور بیوی اس کو چاٹ لے تب بھی شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی۔‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب