کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 59

اَمْرِہٖ فَاِنَّہٗ یُؤَدَّیْ اِلَیْہِ شَطْرُہٗ )) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عورت کے لئے اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر(نفلی )روزہ رکھنا جائز نہیں نہ ہی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی (مرد یا عورت )کو گھر میں آنے کی اجازت دینا جائز ہے ۔جو عورت شوہر کی اجازت کے بغیر (گھر کے ماہانہ )خرچ سے اللہ کی راہ میں دے گی اس سے شوہر کو بھی آدھا ثواب ملے گا۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِذَا دَعَا الرَّجُلُ زَوْجَتَہٗ لِحَاجَتِہٖ فَلْتَأْتِہٖ ، وَ اِنْ کَانَتْ عَلَی التَّنُّوْرِ)) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (صحیح) حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب مرد بیوی کواپنی ضرورت کے لئے بلائے تو اسے چاہئے کہ فوراً حاضر ہو جائے خواہ تنور پر (روٹی ہی پکا رہی )ہو۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر60:شوہر کی غیر حاضری میں اس کے مال ومتاع کی حفاظت کرنا بیوی پر واجب ہے۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ رضی اللہ عنہ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ خُطْبَۃِ عَامِ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ یَقُوْلُ (( لاَ تُنْفِقُ اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِ زَوْجِہَا اِلاَّ بِاِذْنِ زَوْجِہَا )) قِیْلَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ! وَلاَ الطَّعَامَ ؟ قَالَ (( ذٰاکَ اَفْضَلُ اَمْوَالِنَا )) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ(حسن) حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجتہ الوداع کے سال خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔‘‘عرض کیا گیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا کھانا بھی نہ کھلائے ؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کھانا تو ہمارے مالوں میں سے بہترین مال ہے (یعنی شوہر کی اجازت کے بغیر کھانا بھی نہ کھلائے )۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر61:شوہر کی غیر حاضری میں اس کی عزت کی حفاظت کرنا بیوی پر واجب ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب