کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 61

اَہَمِیَّۃُ حُقُوْقِ الزَّوْجَۃِ بیوی کے حقوق کی اہمیت مسئلہ نمبر63:عورت کے حقوق کی قانونی حیثیت وہی ہے جو مرد کے حقوق کی ہے۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْاَحْوَصِ رضی اللہ عنہ قَالَ : حَدَّثَنِیْ اَبِیْ اَنَّہٗ شَہِدَ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاثْنٰی عَلَیْہِ وَ ذَکَّرَ وَ وَعَظَ وَ ذَکَرَ فِی الْحَدِیْثِ قِصَّۃً فَقَالَ ((أَلاَ وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَائِ خَیْرًا ، فَاِنَّمَا ہُنَّ عَوَانٍ عِنْدَکُمْ … أَلاَ اِنَّ لَکُمْ عَلٰی نِسَائِ کُمْ حَقًّا وَ لِنِسَائِکُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا…)) اَلْحَدِیْثُ ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ (حسن) حضرت سلیمان بن عمرو بن احوصرضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں جو کہ حجتہ الوداع میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک خطبہ میں )اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء فرمائی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اس حدیث میں یہ بات بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگو!سنو ،عورتوں کے حق میں خیراوربھلائی کی بات قبول کرو وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں،خبردار رہو! مردوں کے عورتوں پر حقوق (ویسے ہی )ہیں (جیسے )عورتوں کے مردوں پر حقوق ہیں۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر64:عورت کے حقوق ادا کرنا واجب ہے۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ ! اَلَمْ اُخْبَرْ اَنَّکَ تَصُوْمُ النَّہَارَ وَ تَقُوْمُ اللَّیْلَ ؟)) قُلْتُ : بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ! قَالَ ((فَلاَ

  • فونٹ سائز:

    ب ب