کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 68

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ تمہارے لئے اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے مسئلہ نمبر76:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے باہمی پیار و محبت کا ایک دلچسپ واقعہ۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا خَرَجَ اَقْرَعَ بَیْنَ نِسَائِہٖ فَطَارَتِ الْقُرْعَۃُ لِعَائِشَۃَ وَ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ بِاللَّیْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا یَتَحَدَّثُ ، فَقَالَتْ حَفْصَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا : اَلاَ تَرْکَبِیْنَ اللَّّیْلَۃَ بَعِیْرِیْ وَ اَرْکَبُ بَعِیْرَکِ تَنْظُرِیْنَ وَ اَنْظُرُ ، فَقَالَتْ : بَلٰی ، فَرَکِبَتْ ، فَجَائَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِلٰی جَمَلِ عَائِشَۃَ وَ عَلَیْہِ حَفْصَۃُ ، فَسَلَّمَ عَلَیْہَا ثُمَّ سَارَ حَتّٰی نَزَلُوْا وَ افْتَقَدَتْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، فَلَمَّا نَزَلُوْا جَعَلَتْ رِجْلَیْہَا بَیْنَ الْإِذْخِرِ وَ تَقُوْلُ : یَا رَبِّ ! سَلِّطْ عَلَیَّ عَقْرَبًا اَوْ حَیَّۃً تَلْدَغُنِیْ ، وَ لاَ اَسْتَطِیْعُ اَنْ اَقُوْلَ لَہٗ شَیْئًا ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر پر روانہ ہوتے تو ازواج مطہرات g میں قرعہ ڈالتے ایک بار قرعہ میںحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا دونوں کا نام نکلا (تو دونوں ساتھ ہو گئیں )دوران سفر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کا معمول مبارک تھا کہ )رات کے وقت چلتے چلتے(زوجہ محترمہ سے)باتیں کیا کرتے (اس سفر میں )حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (از راہ مذاق) کہا ’’آج رات تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر سوار ہو جاتی ہوں ذرا تم بھی دیکھو (کیا ہوتا ہے )اور میں بھی دیکھتی ہوں ،چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہو گئیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت (حسب ِمعمول )حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

  • فونٹ سائز:

    ب ب