کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 74

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’عبداللہ کو حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے پھر حیض آئے اور پھر پاک ہوجائے پھر صحبت کئے بغیر چاہے تو (اسے اپنے نکاح میں ) روکے رکھے چاہے تو طلاق دے اور یہی وہ عدت ہے جس کے حساب سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ 2-اَلطَّلاَقُ الْبِدْعِیُّ غیر مسنون طلاق مسئلہ نمبر83: دوران حیض ، عورت کو طلاق دینا غیر مسنون ہے۔ مسئلہ نمبر84:جس طہر میں جماع کیا ہو اس طہر میں طلاق دینا غیر مسنون ہے۔ وضاحت : حدیث مسئلہ نمبر92کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ ¢غیر مسنون طلاق ، سنت کے مطابق نہ ہونے کے باوجود واقع ہوجاتی ہے ، لیکن طلاق دینے والا گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ 3-اَلطَّلاَقُ الْبَاطِلُ باطل طلاق مسئلہ نمبر85:نکاح سے پہلے طلاق دینا باطل ہے۔ عَنْ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ((لاَ طَلاَقَ قَبْلَ النِّکَاحِ )) رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ(صحیح) حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر86:زبردستی دلائی گئی طلاق باطل ہے۔ وضاحت : حدیث مسئلہ نمبر3کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب