کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 76
صِفَــــــۃُ الطَّـــــــلاَقِ طلاق کا طریقہ مسئلہ نمبر90:حیض سے پاک ہونے کے بعد حالت طہر میں ایک طلاق دینی چاہئے۔ مسئلہ نمبر91:جس طہر میں طلاق دینی ہو اس طہر میں جماع نہیں کرنا چاہئے۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ :’’ طَلاَقُ السُّنَّۃِ اَنْ یُطَلِّقَہَا طَاہِرًا مِنْ غَیْرِ جَمَاعٍ‘‘ ۔( رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ)(صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : طلاق کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ آدمی حالت ِ طہر میں جماع کے بغیر طلاق دے۔اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر92:دوران عدت بیوی کو اپنے ساتھ گھر میں ہی رکھنا چاہئے۔ مسئلہ نمبر93:دوران عدت حسب سابق بیوی کا نان و نفقہ ادا کرنا شوہر پر واجب ہے۔ وضاحت : آیت نمبر 138-139کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔ مسئلہ نمبر94:ایک وقت میں صرف ایک ہی طلاق دینی جائزہے۔ مسئلہ نمبر95:عدت طلاق (تین حیض) گزرنے کے بعد میاں بیوی میں مستقل علیحدگی ہوجائے گی۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : ’’فِیْ طَلاَقِ السُّنَّۃِ یُطَلِّقُہَا عِنْدَ کُلِّ طُہْرٍ تَطْلِیْقَۃً فَإِذَا طَہُرَتْ الثَّالِثَۃِ طَلَّقَہَا وَ عَلَیْہَا بَعْدَ ذٰلِکَ حَیْضَۃٌ ‘‘۔( رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ )(صحیح)