کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 78

مُبَـــاحَاتُ الطَّـــــــلاَقِ طلاق میں جائز امور مسئلہ نمبر96:نکاح کے بعد جماع سے قبل طلاق دینا جائز ہے۔ { لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ مَا لَمْ تَمَسُّوْہُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَہُنَّ فَرِیْضَۃً ج وَّ مَتِّعُوْہُنَّ عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ ج مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ ج حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ } (236:2) ’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنی عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے یا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے خوش حال آدمی اپنی استطاعت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی استطاعت کے مطابق معروف طریقہ سے دے، یہ حق ہے نیک آدمیوں پر ۔‘‘ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر 236) مسئلہ نمبر97:مشروط یا معلق طلاق دینا جائز ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اَلْمُسْلِمُوْنَ عَلٰی شُرُوْطِہِمْ )) رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ (حسن) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مسلمان اپنی شرطوں کو پورا کریں۔‘‘ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : مشروط طلاق یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے اس قسم کے الفاظ کہے ’’اگرتو گھر سے نکلی تو تجھے طلاق ہے۔‘‘ ایسی طلاق ،’’ طلاق مشروط ‘‘یا ’’طلاق معلق ‘‘کہلاتی ہے، جو شرط پوری ہونے پر واقع ہوجاتی ہے۔ مسئلہ نمبر98:طلاق کے لئے بیوی کو اختیار دینا جائز ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب