کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 84

أَحْـــــکَامُ الـــلِّــعــَـــانِ لعان کے احکام مرد کو اپنی بیوی کے بارے میں زناکاری کا یقین ہو تو اس سے علیحدگی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مرد شرعی عدالت میں جا کر چار بارخود گواہی دے کہ ’’میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔‘‘ اور پانچویں بار یوں کہے ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے پر اللہ کی لعنت۔‘‘ اگر عورت زنا کا اقرار کرلے تو شرعی قانون کے مطابق عدالت اسے سنگسار کرنے کا حکم دے گی اگر عورت انکار کرے تواسے مندرجہ ذیل الفاظ چار مرتبہ کہنے پڑیں گے’’میں اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ مرد جھوٹا ہے ‘‘ اور پانچویں بار یوں کہے ’’اگرمرد سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو۔‘‘ اس کے بعد دونوں میاں بیوی میں عدالت مستقل علیحدگی کرا دے گی، اسے شرع میں ’’لعان ‘‘ کہتے ہیں۔ { وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَاۗءُ اِلَّآ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۢ بِاللّٰهِ ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ Č؀ وَالْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَيْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ Ċ۝ وَيَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۢ بِاللّٰهِ ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ Ď۝ۙ وَالْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَيْهَآ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ Ḍ؀ (النور:6-9)

  • فونٹ سائز:

    ب ب