کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 85

’’اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا کوئی دوسرے گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایک شخص کی گواہی (یوں ہوگی کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو ، عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یوں کہے اگر مرد سچا ہوتو مجھ پر اللہ کا غضب ٹوٹے۔‘‘ (سورہ نور، آیت نمبر 9-6) مسئلہ نمبر113:لعان کے بعد مرد سے حد قذف (تہمت) ساقط ہوجاتی ہے اور عورت سے حد زنا ساقط ہوجاتی ہے۔ مسئلہ نمبر114:لعان صرف شرعی عدالت کے روبرو ہی ہوسکتا ہے۔ مسئلہ نمبر115:لعان سے پہلے قاضی کو مرد عورت دونوں کو اعتراف جرم کی ترغیب دلانی چاہئے اگر دونوں میں سے کوئی بھی اعتراف جرم نہ کرے تب لعان کروانا چاہئے۔ مسئلہ نمبر116:ذاتی علم کی بنا پر قاضی مجرم پر حد جاری نہیں کرسکتا جب تک گواہی نہ ہو۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ ہِلاَلَ بْنِ اُمَیَّۃَ رضی اللہ عنہ قَذَفَ اِمْرَأَتَہٗ عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِشَرِیْکِ بْنِ سَحْمَآئَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ((اَلْبَیِّنَۃَ اَوْ حَدٌّا فِیْ ظَہْرِکَ )) فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِذَا رَأَی اَحَدُنَا عَلٰی اِمْرَأَتِہٖ رَجُلاً یَنْطَلِقُ یَلْتَمِسُ الْبَیَّنَۃَ ؟ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ ((اَلْبَیَّنَۃَ وَ اِلَّا حَدٌّا فِیْ ظَہْرِکَ )) فَقَالَ ہِلاَلٌ : وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِنِّیْ لَصَادِقٌ فَلْیُنْزِلَنَّ اللّٰہُ مَا یُبَرِّئُ ظَہْرِیْ مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَ جِبْرَائِیْلُ وَ اَنْزَلَ عَلَیْہِ { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ } فَقَرَأَ حَتّٰی بَلَغَ {اِنْ کَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(10-6:27) } فَجَائَ ہِلاَلٌ ، فَشَہِدَ وَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ ((اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ اَنَّ اَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ ؟)) ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ فَلَمَّا کَانَتْ عِنْدَالْخَامِسَۃِ وَقَّفُوْہَا وَ قَالُوْا اِنَّہَا مُوْجِبَۃٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَتِلْکَّاَتْ وَ نَکَصَتْ حَتّٰی ظَنَنَّا اَنَّہَا تَرْجِعُ ثُمَّ قَالَتْ لاَ اَفْضَحُ قَوْمِیْ سَآئِرَ الْیَوْمِ فَمَضَتْ وَ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ((اَبْصِرُوْہَا فَاِنْ جَائَ تْ بِہٖ اَکْحَلَ الْعَیْنَیْنِ سَابِغَ الْإِلْیَتَیْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَیْنِ فَہُوَ لِشَرِیْکِ بْنِ سَمْحَآئَ )) فَجَائَ تْ بِہٖ کَذٰلِکَ ، قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ((لَوْ لاَ مَضٰی مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ لَکَانَ لِیْ وَلَہَا شَاْنٌ)) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ

  • فونٹ سائز:

    ب ب