کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 89

أَحْـــــکَامُ الظِّہَـــــارِ ظہارکے احکام مسئلہ نمبر123:بیوی کو ماں یا بہن کہہ کر اپنے اوپر حرام کر لینا منع ہے ، شرع میں اسے ’’ظہار‘‘ کہتے ہیں۔ مسئلہ نمبر124:ظہار کرنے سے بیوی ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہوتی البتہ رجوع کرنے سے قبل کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ نمبر125:ظہار کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا ہے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ { اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ۭاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اڿ وَلَدْنَهُمْ ۭ وَاِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Ą۝ وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّـتَـمَاۗسَّا ۭ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ Ǽ۝ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَـاۗسَّا ۚ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِـتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ۭ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ Ć۝ (الجمادلہ:2-4) ’’تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں ، جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ جھوٹی بات کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے ولا ہے۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی تو قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے جو شخص غلام آزاد نہ کر پائے تو وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلائے یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں او رکافروں کے لئے دردناک سزا ہے۔‘‘ (سورہ مجادلہ ، آیت نمبر4ـ-2)

  • فونٹ سائز:

    ب ب