کتاب: طلاق کے مسائل - صفحہ 90
غلام آزاد کرنا ہوگا اس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے جو شخص غلام آزاد نہ کر پائے تو وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھاناکھلائے یہ حکم اس لئے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں او رکافروں کے لئے دردناک سزا ہے۔‘‘ (سورہ مجادلہ ، آیت نمبر4-2) مسئلہ نمبر126:بظہار کرنے کے بعد کفارہ ادا کرنے سے پہلے اگر کوئی شخص بیوی سے صحبت کرلے تو اسے توبہ استغفار کرنا چاہئے ، دوہرا کفارہ نہیں ہوگا۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ ظَاہَرَ مِنْ اِمْرَأَتِہٖ فَوَقَعَ عَلَیْہَا فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ! اِنِّیْ قَدْ ظَاہَرْتُ مِنْ اِمْرَأَتِیْ فَوَقَعْتُ عَلَیْہَا قَبْلَ اَنْ اُکَفِّرَ ، فَقَالَ ’’وَ مَا حَمَلَکَ عَلٰی ذٰلِکَ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ‘‘ قَالَ : رَأَیْتُ خَلْخَالَہَا فِیْ ضَوْئِ الْقَمَرِ۔ قَالَ ’’ فَلاَ تَقْرَبْہَا حَتّٰی تَفْعَلَ مَا اَمَرَکَ اللّٰہُ ‘‘( رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ) (حسن) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کر بیٹھا ۔ اس نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے صحبت کر لی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ’’اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ، کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر آمادہ کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ’’ میں نے چاندنی میں اس کی پازیب دیکھی (اور اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا)‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دوبارہ اس کے قریب نہ جانا جب تک کفارہ ادا نہ کرلو۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔