کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 14
ملاحظہ ہوں۔ { مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ}(البقرہ:261) ’’جو لوگ اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویاجائے،اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔اللہ تعالیٰ جس (کے عمل)کا اجر چاہتاہے (اس کی نیت کے مطابق جتنا چاہتاہے)بڑھادیتاہے۔اللہ بڑی وسعت والا اور علم والاہے۔‘‘ { اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ۭ وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ }( التغابن :17) ’’اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو تو وہ تمہیں کئی گناہ بڑھا کر دے گا اور تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا،اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور حوصلے والا ہے۔‘‘ { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ڛ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ} (آل عمران:92) ’’تم لوگ اس وقت تک نیکی(کے معیار مطلوب)کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی وہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کردوجنہیں تم محبوب رکھتے ہو۔‘‘ {مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَہٗٓ اَجْرٌ کَرِیْمٌ } (الحدید : 11) ’’کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض دے؟ بہترین قرض تاکہ اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔‘‘ صدقہ و خیرات کی ترغیب میں چند احادیت مبارکہ ملاحظہ ہوں (1) ’’صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصہ کو بجھاتا ہے،اور بری موت سے بچاتا ہے۔‘‘(مسند احمد) (2) ’’قیامت کے دن صدقہ مومن پر سایہ بن جائے گا۔‘‘(مسند احمد) (3) ’’صدقہ کرنے میں جلدی کروکیونکہ مصائب صدقہ سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘‘(رزین)