کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 15
(4) ’’صدقہ قیامت کے دن جہنم سے ڈھال ہو گا۔‘‘(طبرانی) (5) ’’صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔‘‘(مسلم) (6) ’’جو شخص کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے گا،اللہ تعالیٰ اسے جنت کاسبز ریشم پہنائے گا،جو شخص کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے میوے کھلائے گا ،جو شخص کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں عمدہ شراب پلائے گا۔‘‘ (ابوداؤد،ترمذی) (7) ’’وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں لایا جو رات پیٹ بھر کر سویااور اس کا پڑوسی بھوکا رہا حالانکہ اسے اس بات کی خبر تھی۔‘‘(طبرانی) (8) ’’میں اور یتیم ……رشتہ داریا غیر رشتہ دار……کا سرپرست جنت میں اس طرح ایک ساتھ ہوں گے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیاں کھڑی کرکے یہ بات ارشاد فرمائی)‘‘ (صحیح مسلم) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انفاق فی سبیل اللہ کی زبانی ترغیب کے علاوہ امت کے سامنے ایسی عملی مثالیں پیش فرمائیںجو قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی بہترین ترجمان تھیں۔ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’بیٹھ جاؤ،اللہ تعالیٰ دے گا۔‘‘پھر دوسراآیا،پھر تیسرا آیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو بٹھالیا،کیوں کہ اس وقت آپ کے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے چار اوقیہ چاندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک اوقیہ تینوں سوالیوں میں تقسیم فرمادی اور پھر پوچھا ’’کوئی اور ہے لینے والا؟‘‘ کوئی اور لینے والا نہیں تھا،رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آرہی تھی بار بار پہلو بدلتے یا اٹھ کر نماز پڑھنے لگتے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا’’کیا کوئی تکلیف ہے؟‘‘ فرمایا’’نہیں!‘‘دوبارہ عرض کیا’’کوئی حکم نازل ہوا ہے؟ جس کی وجہ سے یہ بے قراری ہے؟‘‘ فرمایا’’نہیں!‘‘ام المومنین رضی اللہ عنہا نے پھر عرض کیا’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند کیوں نہیں آرہی؟‘‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ایک اوقیہ چاندی نکال کر دکھائی اور فرمایا’’یہ ہے وہ چیز جس نے مجھے بے قرار کررکھاہے۔ڈر رہا ہوں کہ اسے خرچ کرنے سے قبل کہیں موت نہ آجائے ۔‘‘(رحمۃ للعالمین) جنگ حنین کے موقع پر چھ ہزار قیدی،چوبیس ہزار اونٹ،ایک ہزار بکریاں اور چارہزار اوقیہ