کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 16
چاندی(125 کلو گرام)مال غنیمت میں حاصل ہوئی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے کا سارا مال غنیمت تقسیم فرمادیا۔خود گھر سے جس خیر و برکت کے ساتھ تشریف لائے تھے اسی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے۔‘‘ (رحمۃ للعالمین) ایک آدمی نے حاضر ہو کر سوال کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’میرے پاس اس وقت دینے کے لئے توکچھ نہیں البتہ میرے نام سے کوئی چیز خرید لو تو میں اس کا قرضہ ادا کردوں گا ۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طاقت نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا مکلف نہیں ٹھہرایا ۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار محسوس ہوئی۔ایک انصاری نے عرض کیا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ خرچ کیجئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فقر کا خدشہ محسوس نہ کیجئے۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا’’مجھے اسی بات کا حکم دیاگیاہے۔‘‘(ترمذی) رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل کی اتباع میں اہل بیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انفاق فی سبیل اللہ کی ایسی ایسی نادر مثالیں پیش کیں کہ مذاہب عالم کی تاریخ ایسی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک لاکھ درہم بھیجے جو انہوں نے اسی وقت غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کردیئے،اس دن آپ روزہ سے تھیں۔ خادمہ نے عرض کیا’’اگر افطار کے لئے کچھ بچا لیتیں تو اچھاتھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا ’’اس وقت یاد دلاتیں تو رکھ لیتی۔‘‘(مستدرک حاکم) سورہ بقرہ کی آیت[ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا ] نازل ہوئی تو ایک صحابی حضرت ابو دحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کیا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب فرماتاہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ہاں!‘‘صحابی نے عرض کیا’’اپنا ہاتھ دیجئے۔‘‘پھر ہاتھ میں ہاتھ لے کر کہا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اپنا باغ جس میں چھ سو کھجور کے درخت ہیں، اللہ تعالیٰ کو قرض دیا۔‘‘سیدھے باغ میں آئے اور بیوی کو باغ سے باہر ہی کھڑے ہو کر آواز دی ’’بچوں کو باہر لے کر آجاؤ میں نے یہ باغ راہ خدا میں دے دیاہے ۔‘‘(ابن ابی حاتم) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک مرتبہ قحط پڑا۔لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’کل تمہاری مشکل دورہوجائے گی۔‘‘ دوسرے روز علی الصبح حضرت