کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 19
لیے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام اور قوانین کبھی بھی راہ نجات نہیں بن سکتے۔ سرمایہ داری اور اشتراکیت کے مقابلے میں اسلامی نظام معیشت کی بنیاد اس تعلیم پر ہے۔کہ اس کائنات اور کائنات کی ہر چیز کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے،دولت اور وسائل دولت کا حقیقی مالک بھی وہی ہے۔قرآن مجید نے مختلف جگہ پر مختلف انداز میں اس کی نشاندہی فرمائی ہے۔ سورہ نور میں ارشاد مبارک ہے: { وَّاٰتُوْہُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اٰتٰیکُمْ }(سورۃنور: 33) ’’آزادی کے خواہشمند غلاموں کو اس مال سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا۔‘‘ سورہ حدید میں اللہ پاک فرماتے ہیں: { وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ }(سورۃالحدید: 7) ’’جس مال پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنایا ہے،اس میں سے خرچ کرو۔‘‘ قرآن مجید میں پچاس سے زیادہ آیات ایسی ہیں جن میں اللہ کریم نے کہیں رَزَقْنَاھُمْ اورکہیں رَزَقَھُمْ اور کہیں رَزَقْنَاکُمْ اور کہیں رَزَقَکُمْکہہ کر لوگوں کو رزق دینے کی نسبت اپنی طرف کی ہے ،جس سے انسان کو یہ حقیقت ذہن نشین کروانا مقصود ہے کہ یہ مال و دولت جسے انسان اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے اپنی ملکیت سمجھنے لگتا ہے۔دراصل یہ اللہ کی ملکیت ہے جو اس نے اپنے بندوں کو امانت کے طور پر دے رکھی ہے۔لہٰذا انسان اس بات کا پابند ہے کہ جو دولت اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے اسے اللہ تعالیٰ ہی کے حکم کے مطابق استعمال کرے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دونوں معاملات…دولت کمانے اور دولت خرچ کرنے…میں انسان کو حدود و قیود بتا دیں۔دولت کمانے کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے جن ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حرام قرار دیا ہے وہ یہ ہیں۔ (1) رشوت اور غصب(سورہ بقرہ ،آیت نمبر188) (2) خیانت(سورہ آل عمران ،آیت نمبر61) (3) بت گری و بت فروشی(سورہ مائدہ ،آیت نمبر90) (4) چوری(سورہ مائدہ ،آیت نمبر38)