کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 20
(5) ناپ تول میں کمی (سورہ مطففین ،آیت نمبر13) (6) مال یتیم میں حق تلفی(سورہ نساء،آیت نمبر1) (7) اتفاقیہ آمدنی والے تمام ذرائع مثلًا جوا وغیرہ(سورہ مائدہ،آیت نمبر9) (8) شراب کی تیاری،خرید و فروخت اور نقل و حمل کی آمدنی(سورہ مائدہ،آیت نمبر90) (9) فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والے کاروبار(سورہ نور،آیت نمبر19) (01) سودی کاروبار(سورہ آل عمران ،آیت نمبر30) (11) قحبہ گری اور زنا کی آمدنی (سورہ نور،آیت نمبر33) (12) قسمتیں بتانے کا کاروبار (سورہ مائدہ،آیت نمبر90) اس کے علاوہ ایسے تمام ذرائع جو جھوٹ دھوکے اور فریب پر مبنی ہوں اسلام کے نزدیک ناجائز اور حرام ہیں۔ مذکورہ بالااحکامات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ شریعت اسلامی نے زیادہ دولت کمانے کے لالچ میں غلہ روکنے کو سنگین جرم قرار دیا ہے۔ اب ایک نظر دولت خرچ کرنے کے احکامات پر بھی ڈال لیجئے جن جن راستوں پر اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم دیا یا ترغیب دلائی ہے وہ یہ ہیں: (1) والدین،عزیزواقارب،یتیموں،مسکینوںاورہمسایوںپرخرچ کرنا(سورہ نساء ، آیت نمبر36) (2) سوالی اور معذور لوگوں پر خرچ کرنا۔(سورہ الذاریات،آیت نمبر10) (3) قرض دینا۔(سورہ البقرہ ،آیت نمبر28) (4) زکاۃادا کرنا۔(سورہ التوبہ،آیت نمبر103) (5) صدقات ادا کرنا۔(سورہ البقرہ ،آیت نمبر271) متذکرہ بالا احکامات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے مال اپنے پاس روکنے اور جمع کرنے کی بھی ممانعت فرمائی ہے۔(سورہ التوبہ،آیت نمبر34)اور ساتھ ہی اسراف (فضول خرچی)اور بخیلی سے بھی منع فرما دیا۔ (سورہ فرقان،آیت نمبر67)