کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 28
اَلنِّیَّــــــــــۃُ نیت کے مسائل مسئلہ نمبر:1 اعمال کے اجروثواب کا دارومدارنیت پر ہے۔ مسئلہ نمبر:2 زکاۃادا کرتے وقت نیت کرنا ضروری ہے۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی، فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہُ إِلَی دُنْیَا یُصِیبُہَا، أَوْ إِلَی امْرَأَةٍ یَنْکِحُہَا، فَہِجْرَتُہُ إِلَی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ‘‘(رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی،لہٰذا جس نے دنیا حاصل کرنے کی نیت سے ہجرت کی(اسے دنیا ملے گی)یا جس نے عورت حاصل کرنے کی نیت سے ہجرت کی(اسے عورت ہی ملے گی)پس مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لئے سمجھی جائے گی جس غرض کے لئے اس نے ہجرت کی ۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:3 دکھاوے کی زکاۃ،نماز اور روزہ سب شرک(اصغر)ہے۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ ’’ مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ‘‘( رَوَاہُ اَحْمَدُ )(حسن) حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے’’جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا،جس نے دکھاوے کا روزہ رکھااس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کا صدقہ کیا،اس نے شرک کیا ۔‘‘اسے احمد نے روایت کیا ہے۔