کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 31
فَضْلُ الـــــــــــزَّکَاۃِ زکاۃ کی فضیلت مسئلہ نمبر:8 زکاۃ اداکرنے والا جنتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ اَعْرَابِیًّا اَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُہٗ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ ، قَالَ ’’ تَعْبُدُ اللّٰہَ لاَ تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا وَ تُقِیْمُ الصَّلاَۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ وَ تُؤَدِّی الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَ تَصُوْمُ رَمَضَانَ‘‘ قَالَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لاَ أَزِیْدُ عَلٰی ہٰذَا فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ’’مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ہٰذَا‘‘( رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا ’’مجھے ایسا عمل بتائیے جسے کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر،فرض نماز قائم کر،فرض زکاۃادا کر،اور رمضان المبارک کے روزے رکھ۔‘‘اس نے کہا ’’اللہ کی قسم!میں اس سے زیادہ کچھ نہ کروں گا۔ جب وہ آدمی واپس ہوا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جسے جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو،وہ اسے دیکھ لے ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے مسئلہ نمبر:9 زکاۃ اداکرنے والے کے ایمان کی گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ’’ اِسْبَاغُ الْوَضُوْئُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِیْزَانَ وَالتَّسْبِیْحُ وَالتَّکْبِیْرُ یَمْلَأُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ، وَالصَّلاَۃُ نُوْرٌ وَالزَّکَاۃُ بُرْہَانٌ ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ ، وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَیْکَ ‘‘(رَوَاہُ النِّسَائِیُّ) حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے’’وضو اچھی طرح کرنا