کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 32
نصف ایمان ہے،اور الحمدللہ(کہنا)میزان کو(نیکیوں سے)بھردیتاہے،سبحان اللہ اور اللہ اکبر( کہنا) آسمان وزمین کو (نیکیوںسے)بھردیتے ہیں۔نماز(قیامت کے دن)روشنی ہوگی اور زکاۃ (صاحب ایمان ہونے کی)دلیل ہے،صبرکرنا(پریشانیوںاور مصائب میں راہ دکھانے کے لئے)روشنی ہے اور قرآن(قیامت کے روز گواہی دے کر)تیرے حق میں حجت بنے گا یا تیرے خلاف حجت بنے گا۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیاہے۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ اَسْلَمَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَقَالَ اَعْرَابِیٌّ اَخْبِرْنِیْ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ ’’ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ‘‘ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مَنْ کَنَزَہَا فَلَمْ یُؤَدِّ زَکَاتَہَا فَوَیْلٌ لَّہٗ اِنَّمَا کَانَ ہٰذَا قَبْلَ اَنْ تُنْزَلَ الزَّکَاۃُ فَلَمَّا اُنْزِلَتْ جَعَلَہَا اللّٰہُ طُہْرًا لِلْاَمْوَالِ ۔(رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ) حضرت خالد بن اسلم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے تو ایک دیہاتی نے کہا ’’مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول ’’ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃ‘‘کے مطلب سے آگاہ فرمائیے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا’’جس آدمی نے سونا چاندی جمع کیا اور اس کی زکاۃنہ دی تو اس کے لئے خرابی ہے اور یہ آیت زکاۃکا حکم اترنے سے پہلے کی ہے۔جب زکاۃفرض ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مال زکاۃکے ذریعے پاک کر دیا ۔اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:10 زکاۃاداکرنے سے مال میں اضافہ ہوتاہے۔ وضاحت: حدیث مسئلہ نمبر128کے تحت ملاحظہ فرمائیں