کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 34
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص سونے اورچاندی کا مالک ہو لیکن اس کا حق (یعنی زکاۃ)ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس (سونے اور چاندی)کی تختیاں بنائی جائیں گی۔پھر ان کو جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا۔پھر ان سے اس (منکر زکاۃ)کے پہلو،پیشانی اور پیٹھ پر داغ لگائے جائیں گے۔جب کبھی (یہ تختیاں گرم کرنے کے لئے)آگ میں واپس لے جائی جائیں گی تو دوبارہ(عذاب دینے کے لئے)لوٹائی جائیں گی(اس سے یہ سلوک)سارا دن ہوتا رہے گا جس کا عرصہ پچاس ہزار سال(کے برابر)ہے۔یہاں تک کہ انسانوں کے فیصلے ہو جائیں ۔پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف دیکھے یا دوزخ کی طرف ۔‘‘عرض کیا گیا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اونٹوں کا کیامعاملہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکاۃ)ادا نہ کرے اور اس کے حق سے یہ بھی ہے کہ پانی پلانے کے دن کا دودھ دوھے (اور عرب کے رواج کے مطابق یہ دودھ مساکین کو پلا دے)وہ قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں اوندھے منہ لٹایا جائے گا اور وہ اونٹ بہت فربہ اور موٹے ہو کر آئیں گے ان میں سے ایک بچہ بھی کم نہ ہو گا(یعنی سب کے سب)اس (منکر زکاۃ)کو اپنے کھروں،پاؤں سے روندیں گے۔اور اپنے منہ سے کاٹیں گے ۔جب پہلا اونٹ (یہ سلوک کر کے)جائے گا تو دوسرا آ جائے گا (اس سے یہ سلوک)سارا دن ہوتا رہے گاجس کا عرصہ پچاس ہزار سال(کے برابر)ہے۔حتی کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے گاپھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف دیکھے گا یا جہنم کی طرف ۔‘‘عرض کیا گیا’ ’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !گائے اور بکری کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟‘‘ فرمایا’’کوئی گائے اور بکری والا ایسا نہیں جو ان کا حق (زکاۃ)ادا نہ کرے مگر جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ اوندھا لٹایا جائے گا۔ایک ہموار زمین پر،اور ان گائے اور بکریوں میں سے کوئی کم نہ ہو گی(سب کی سب آئیں گی)اور ان میں سے کوئی سینگ مڑی ہوئی نہ ہو گی نہ بغیر سینگوں کے اور نہ ٹوٹے ہوئے سینگوں والی۔وہ اس کو اپنے سینگوں سے ماریں گی۔اور اپنے کھروں سے روندیں گی۔جب پہلی گزر جائے گی تو پچھلی آ جائے گی(یعنی لگاتار آتی رہیں گی)دن بھر ایسا ہوتا رہے گاجس کی مدت پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔پھر وہ اپنا راستہ جنت کی طرف دیکھے یا دوزخ کی طرف ۔اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ: کُنْتُ فِی نَفَرٍ مِنْ قُرَیْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ، وَہُوَ یَقُولُ: ’’بَشِّرِ الْکَانِزِینَ، بِکَیٍّ فِی ظُہُورِہِمْ، یَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِہِمْ، وَبِکَیٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِہِمْ یَخْرُجُ مِنْ جِبَاہِہِمْ‘‘، قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّی فَقَعَدَ، قَالَ قُلْتُ: مَنْ ہَذَا؟ قَالُوا: ہَذَا أَبُو ذَرٍّ، قَالَ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَقُلْتُ: مَا شَیْءٌ سَمِعْتُکَ تَقُولُ قُبَیْلُ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلَّا شَیْئًا قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّہِمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔(رَوَاہُ مُسْلِمٌ)