کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 37
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے’’بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے ایک کوڑھی دوسرا گنجا اور تیسرا اندھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کاارادہ فرمایا ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا۔وہ کوڑھی کے پاس آیااور کہا ’’تجھے کون سی چیز بہت پیاری ہے؟‘‘ اس نے کہا’’اچھارنگ اور اچھا بدن اور وہ چیز مجھ سے دورہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’فرشتے نے اس(کے جسم)پر ہاتھ پھیرا،پس اس سے اس کی گندگی دور ہو گئی،اور اچھارنگ اور اچھا بدن دے دیا گیا ۔‘‘پھر فرشتے نے کوڑھی سے پوچھا’’تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟‘‘ اس نے کہا’’اونٹ‘‘ یا کہا ’’گائے‘‘ راوی(اسحاق)کو شک ہے ہاں کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہااور دوسرے نے گائے کہا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اسے ایک حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور کہاتجھے سب سے زیادہ کون سی چیز پسند ہے؟‘‘ اس نے کہا’’خوب صورت بال،اور وہ چیز مجھ سے دور ہو جائے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا اس کا گنجا پن جاتا رہا اور خوب صورت بال اسے دے دیئے گئے ۔‘‘فرشتے نے پوچھا ’’تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے؟‘‘ اس نے کہا ’’گائے‘‘ پس ایک حاملہ گائے اسے دے دی گئی اور فرشتے نے کہا’اللہ تجھے اس میں برکت دے۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہاتجھے سب سے زیادہ پیاری چیز کون سی ہے؟‘‘ اس نے کہا’’اللہ مجھے بینائی دے دے تا کہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا،اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی واپس کر دی۔فرشتے نے کہا’’تجھے سب سے زیادہ مال کون سا پسند ہے؟‘‘ اس نے کہا’’بکریاں‘‘ اسے ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔پس بچے لئے کوڑھی اور گنجے نے اونٹ اور گائے کے اور اندھے نے بکری کے۔جس سے کوڑھی کے لئے ایک جنگل اونٹوں سے بھر گیا گنجے