کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 38
کے لئے ایک جنگل گائے سے بھر گیااور اندھے کے لئے ایک جنگل بکریوں سے بھر گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پھر(کچھ عرصہ بعد)فرشتہ کوڑھی کے پاس اس کی پہلی صورت اور شکل میں آیا۔‘‘اور آ کر کہا’ ’غریب آدمی ہوں سفر میں میرا مال و اسباب جاتارہا،اب میراآج کے دن (اپنی منزل پر)پہنچنا اللہ کی مہربانی اور تیرے سبب سے ہے۔میں تجھ سے اسی ذات کے واسطہ سے مانگتا ہوں،جس نے تجھے اچھا رنگ جسم اور مال دیا ہے ایک اونٹ چاہتاہوں،جس کے ذریعے اپنی منزل پر پہنچ سکوں۔‘‘اس نے کہا’’حقدار بہت ہیں( یعنی خرچ زیادہ ہے مال کم ہے)فرشتے نے کہا’’میں تجھے پہچانتا ہوں کیاتوکوڑھی نہ تھا کہ لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے اور تو غریب تھا اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت اور مال دیا ۔‘‘اس نے کہا’’مجھے تو یہ مال و دولت باپ دادا سے وراثت میں ملا ہے ۔فرشتے نے کہا’’تو جھوٹا ہے،اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا کہ توتھا ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اسے وہی کہا،جو کوڑھی سے کہا تھا،گنجے نے وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔‘‘فرشتے نے کہا’’اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تو تھا ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس اس کی (سابقہ)صورت میں آیااور کہا’غریب مسافر ہوں۔سفر میں میرا مال و اسباب جاتا رہا۔آج میں (اپنی منزل پر)نہیں پہنچ سکتا ہوں،مگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور تیرے سبب سے تجھ سے اسی ذات کے واسطہ سے مانگتا ہوں جس نے تجھے بینائی دی۔ایک بکری (چاہتا ہوں)کہ اس کے باعث اپنی منزل پر پہنچ سکوں ۔‘‘اندھے نے کہا’’بے شک میں اندھا تھا۔مجھے اللہ تعالیٰ نے بینائی دی،پس تو جو چاہے لے لے،اور جو چاہے چھوڑ دے۔اللہ کی قسم! آج کے دن میں تیرا ہاتھ نہ پکڑوں گا۔اس چیز سے جسے تو اللہ کے لئے لینا چاہے۔‘‘فرشتے نے کہا’’اپنا مال اپنے پاس رکھ۔حقیقت یہ ہے کہ تم (تینوں)کو آزمایاگیا۔پس تجھ سے اللہ راضی ہوا۔اور تیرے دونوں ساتھیوں پر غصہ کیا گیا ۔‘‘ اسے بخاری اورمسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:15 زکاۃنہ دینے والا دوزخی ہے۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم’’ مَانِعُ الزَّکَاۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ النَّارِ‘‘(َوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ) (حسن) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’زکاۃنہ دینے والا قیامت