کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 41
کے خلاف جنگ نہ کرو)اور جاننے والوں کے لئے ہم اپنے احکام واضح کئے دیتے ہیں۔‘‘ مسئلہ نمبر:20 زکاۃاللہ کی رحمت کا وسیلہ ہے۔ [وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } (سورۃنور: 56) ’’نماز قائم کرو،زکاۃدو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو امید ہے تم پر رحم کیا جائے گا۔‘‘ مسئلہ نمبر:21 زکاۃگناہوں کا کفارہ اور تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے۔ { خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـةً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَیْہِمْ ۭ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ ۭ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ }(سورۃتوبہ : 103) ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !تم ان کے اموال سے زکاۃلے کر انہیں گناہوں سے پاک اور صاف کرو،نیز ان کے حق میں دعائے رحمت کرو،کیوں کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہو گی۔اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔‘‘ مسئلہ نمبر:22 زکاۃادا کرنے والے سچے مومن ہیں۔ { الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ Ǽ۝ٰۭٓاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا } (سورہ انفال: 3-4) ’’جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس سے (اللہ کی راہ میں)خرچ کرتے ہیں۔حقیقت میں وہی سچے مومن ہیں۔‘‘ مسئلہ نمبر:23 زکاۃادا کرنے سے دولت میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔ { وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ } (سورۃروم: 39) ’’اورجو زکاۃتم لوگ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دیتے ہو،اس سے دراصل دینے والے اپنے مال میں اضافہ کرتے ہیں۔‘‘ مسئلہ نمبر:24 زکاۃآخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ { الۗمّۗ Ǻ۝ۚتِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ Ą۝ۙہُدًی وَّرَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَ Ǽ۝ۙالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَةِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ Ć ۝ۭاُولٰۗیِٕکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ }( سورۃ لقمان:1-5)