کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 42
’’الم،یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں ان نیک بندوں کے لئے ہدایت اور رحمت جو نماز قائم کرتے ہیں، زکاۃدیتے ہیں،یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں،اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ مسئلہ نمبر:25 اقتدار حاصل ہونے کے بعد نظام زکاۃکا نفاذ فرض ہے۔ [اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ ۭ وَلِلّٰہِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ }(سورہ حج، :41) ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو نماز قائم کریں گے،زکاۃدیں گے،نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے تمام معاملات کا انجام تو بس اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ مسئلہ نمبر:26 نماز اور زکاۃادا کرنے والے ایماندار لوگوں کو ہی مساجد آباد کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ [اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّکٰوةَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰۗیِٕکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ}(سورۃ توبہ: 18) ’’اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کے آبادکار تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور روز آخر کو مانیں،نماز قائم کریں،زکاۃدیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں،انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ پر چلیں گے۔‘‘ مسئلہ نمبر:27 زکاۃادا کرنے والے قیامت کے دن ہر قسم کے خوف اور غم سے محفوظ ہوں گے۔ [اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوةَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ}(سورۃ بقرہ : 277)