کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 52
کے فقراء کو دی جائے گی ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:44 زکاۃکے مال میں خیانت یا خرد برد کرنے والا شخص قیامت کے دن اس مال کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنٍ صَامِت رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَہُ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَقَالَ ’’ یَا اَبَا الْوَلِیْدِ اِتَّقِ اللّٰہَ لاَ تَاتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَعِیْرٍ تَحْمِلُہُ لَہٗ رُغَائٌ اَوْ بَقَرَۃٌ لَہَا خُوَارٌ اَوْ شَاۃٌ لَہَا ثُغَائٌ ‘‘ قَالَ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ ذٰلِکَ لَکَذٰلِکَ ؟ قَالَ ’’ اَیْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ‘‘ قَالَ : فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لاَ اَعْمَلُ لَکَ عَلَی شَیْئٍ اَبَدًا (رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ) (صحیح) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکاۃوصول کرنے کے لئے مقرر کیا اور فرمایا’’اے ابو ولید!(مال زکاۃکے بارے میں)اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا قیامت کے روز اس حال میں نہ آنا کہ تم(اپنے کندھوں پر)اونٹ اٹھائے ہوئے آؤ جو بلبلا رہا ہو یا (اپنے کندھوں پر چوری کی ہوئی)گائے اٹھائی ہوئی ہو جو ڈکار رہی ہو یا بکری اٹھا رکھی ہو جو ممیا رہی ہو(اور مجھے سفارش کے لئے کہو)۔‘‘حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے عرض کیا’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا مال زکاۃمیں خرد برد کا یہ انجام ہو گا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ہاں قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے(یہی انجام ہو گا) حضرت عبادہ بن صامت نے عرض کیا’’اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کبھی بھی عامل کا کام نہیں کروں گا ۔‘‘اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَہٗ ’’ قُمْ عَلَی صَدَقَۃِ بَنِی فُلاَن وَانْظُرْ تَاتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِبَکْرٍ تَحْمِلُہُ عَلَی عَاتِقِکَ اَوْ کَاہِلِکَ لَہُ رُغَائٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘‘ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِصْرِفْہَا عَنِّیْ فَصَرَفَہَا عَنْہُ ۔(رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ وَالْبَزَارُ) (صحیح) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا’’جاؤ فلاں قبیلے کی زکاۃ اکٹھی کر کے لاؤ اور ہاں دیکھو!کہیں قیامت کے روز ایسی حالت میں نہ آنا کہ تمہاری گردن یا پیٹھ پر جوان اونٹ ہو جو بلبلا رہا ہو ۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اس ذمہ داری سے سبکدوش