کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 54
اَلْـاَشْیَائُ الَّتِیْ تَجِبُ عَلَیْہَا الزَّکَاۃُ وہ اشیاء جن پر زکاۃ واجب ہے مسئلہ نمبر:46 سونے پر زکاۃہے۔ مسئلہ نمبر:47 سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے یا87 گرام ہے،اس سے کم پر زکاۃنہیں۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَاخُذُ مِنْ کُلِّ عِشْرِیْنَ دِیْنَارًا فَصَاعِدًا نِصْفَ دِیْنَارٍ وَمِنَ الْاَرْبَعِیْنَ دِیْنَارًا دِیْنَارًا (رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ) (صحیح) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیس دینار یا اس سے زیادہ پر نصف دینار (یعنی چالیسواں حصہ)زکاۃلیتے تھے۔اورہر چالیس دینار سے ایک دینار(یعنی چالیسواں حصہ)۔اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : (1)دینار سونے کا تھا۔اور بیس دینار کا وزن ساڑھے سات تولہ تھا۔ (2)زکاۃسونا یا سونے کی قیمت دونوں صورتوں میں ادا کرنا جائز ہے۔ (3)سونے کی قیمت کا اندازہ موجودہ بھاؤ کے مطابق لگا کر زکاۃادا کرنی چاہیے۔ مسئلہ نمبر:48 چاندی پر زکاۃہے۔ مسئلہ نمبر:49 چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے یا 612گرام ہے۔اس سے کم پر زکاۃنہیں۔ مسئلہ نمبر:50 زکاۃکی شرح بلحاظ وزن یا بلحاظ قیمت اڑھائی فیصد ہے۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ’’لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَۃٌ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ اَوَاقٍ مِنَ الْوَرَقِ صَدَقَۃٌ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ زَوْدٍ مِّنَ الْاِبِلِ صَدَقَۃٌ ‘‘( رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ)