کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 55
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکاۃنہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃنہیں ہے اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃنہیں ہے۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : پانچ اوقیہ کا وزن موجودہ حساب سے ساڑھے باون 52½تولہ ہے۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم’’اِنِّیْ قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنْ صَدَقَۃِ الْخَیْلِ وَالرَّقِیْقَ وَلٰکِنْ ہَاتُوْا رُبُعَ الْعُشْرِ مِنْ کُلِّ اَرْبَعِیْنَ دِرْہَمًا دِرْہَمًا‘‘(رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ) (حسن) حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃسے تمہیں معاف رکھا ہے،لیکن (چاندی)سے چالیسواں حصہ ادا کرو یعنی ہر چالیس درہم سے ایک درہم۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : درہم چاندی کا ہوتاتھا۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، قَالَ: ’’ہَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ، مِنْ کُلِّ أَرْبَعِینَ دِرْہَمًا دِرْہَمٌ، وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ شَیْءٌ حَتَّی تَتِمَّ مِائَتَیْ دِرْہَمٍ، فَإِذَا کَانَتْ مِائَتَیْ دِرْہَمٍ، فَفِیہَا خَمْسَةُ دَرَاہِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَی حِسَابِ ذَلِکَ‘‘(رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ) (صحیح) حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’ ’چاندی سے چالیسواں حصہ ادا کرو(یعنی)ہر چالیس(40)درہم سے ایک درہم اور جب تک دو سو درہم پورے نہ ہوں،تب تک کوئی چیز(زکاۃ)واجب نہیںجب دو سو درہم پورے ہو جائیں،تو ان سے پانچ درہم ادا کرو،اور جو دو سو درہم سے زیادہ ہو اس پر اسی حساب سے زکاۃواجب ہو گی ۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر:51 نصاب سے کم سونا اور نصاب سے کم چاندی کو ملا کر زکاۃادا کرنا سنت سے ثابت نہیں۔