کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 56
مسئلہ نمبر:52 سونے اور چاندی کے زیر استعمال زیورات پر بھی زکاۃہے۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہَا ابْنَةٌ لَہَا، وَفِی یَدِ ابْنَتِہَا مَسَکَتَانِ غَلِیظَتَانِ مِنْ ذَہَبٍ، فَقَالَ لَہَا: «أَتُعْطِینَ زَکَاةَ ہَذَا؟»، قَالَتْ: لَا، قَالَ:’’أَیَسُرُّکِ أَنْ یُسَوِّرَکِ اللَّہُ بِہِمَا یَوْمَ الْقِیَامَةِ سِوَارَیْنِ مِنْ نَارٍ؟‘‘، قَالَ: فَخَلَعَتْہُمَا، فَأَلْقَتْہُمَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: ہُمَا لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِہِ ‘‘(رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ) عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی، جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا’’کیا تم اس کی زکاۃادا کرتی ہو؟‘‘ اس نے کہا’’نہیں!‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’کیا تجھے یہ پسند ہے کہ اللہ تجھے ان کے بدلہ میں قیامت کے دن دو کنگن آگ سے پہنائے؟‘‘ اس نے (یہ سن کر)دونوں کنگن اتار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے اور کہا’’یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہیں ۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : دھات کے سکے یا کاغذ کی کرنسی چونکہ ہر وقت سونے یا چاندی سے تبدیل کی جا سکتی ہے۔لہٰذا رائج الوقت کرنسی کا نصاب 87 گرام سونا یا612 گرام چاندی دونوں میں سے جس کی قیمت کم ہو گی،اس کے برابر ہو گا۔جس پر سال گزرنے کے بعد اڑھائی فیصد کے حساب سے زکاۃادا کرنی چاہئے۔ مسئلہ نمبر:53 سال کے آخر میں سارے مال تجارت (مع منافع)کی قیمت لگا کر زکاۃادا کرنی چاہئے۔ عَنْ اَبِیْ عَمْرِو بْنِ حَمَّاسٍ عَنْ اَبِیْہِ رضی اللہ عنہ قَالَ کُنْتُ اَبِیْعُ الْاُدُمَ وَالْجُعَابَ فَمَرَّبِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ قَالَ اَدِّ صَدَقَۃَ مَالِکَ ، فَقُلْتُ یَا اَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ ! اِنَّمَا ہُوَ الْاُدُمُ قَالَ : قَوِّمْہُ ثُمَّ اَخْرِجْ صَدَقَتَہُ (رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَاَحْمَدُ وَالدَّارَقُطْنِیُّ وَالْبَیْہَقِیُّ)