کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 57
حضرت ابو عمرو بن حماس اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں چمڑا اور تیر کے ترکش فروخت کرتا تھاحضرت عمررضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا’’اپنے مال کی زکاۃادا کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا’’اے امیر المومنین! یہ تو فقط چمڑا ہے ۔‘‘حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا’’اس کی قیمت لگاؤ اور اس کی زکاۃادا کرو ۔‘‘اسے شافعی،احمد،دارقطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : 1مال تجارت کا نصاب اور شرح نقدی ہی کا نصاب اور شرح ہے۔یعنی حاضر وقت میں ساڑھے باون تولہ(612 گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولے (87)گرام سونا میں سے جس کی قیمت کم ہو گی وہ قیمت مال تجارت کا نصاب تصور کیا جائے گا،اور شرح زکاۃاڑھائی فیصد ہوگی۔ 2دوران سال میں مال تجارت کی مقدار یا قیمت میں کمی بیشی کا لحاظ کئے بغیر زکاۃدیتے وقت سارے مال تجارت کی مقدار اور قیمت کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ مسئلہ نمبر:54 زمین کی پیداوار میں سے گندم،جو،کشمش اورکھجور پر زکاۃہے۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ اِنَّمَا سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ’’اَلزَّکَاۃَ فِیْ ہٰذِہِ الْاَرْبعَۃِ الْحِنْطَۃَ وَالشَّعِیْرَ وَالزَّبِیْبَ وَالتَّمْرَ‘‘(۔رَوَاہُ الدَّارَقُطْنِیُّ) (صحیح) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل چار چیزوں میں زکاۃ مقرر فرمائی ہے1گندم2جو3کشمش اور4کھجور۔‘‘اسے دارقطنی نے روایت کیاہے۔ مسئلہ نمبر:55 زمین کی پیداوار کے لئے زکاۃکا نصاب پانچ وسق(725 کلو گرام) ہے۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : ’’لَیْسَ فِیْ حَبٍّ وَلاَ تَمْرٍ صَدَقَۃٌ حَتّٰی تَبْلُغَ خَمْسَۃَ اَوْسُق‘‘ (رَوَاہُ النِّسَائِیُّ) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب تک غلہ اور کھجور کی مقدار پانچ وسق(تقریبًا20 من یا725 کلو گرام)تک نہ ہوجائے،اس پرزکاۃنہیں۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیاہے۔