کتاب: زکوۃ کے مسائل - صفحہ 64
مسئلہ نمبر:83 60 سے زیادہ گائیوں پر ہر تیس کے اضافے پر ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی اور چالیس کے اضافہ پر دو سال کا بچھڑ ایا بچھڑی ادا کرنی چاہئے۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی اللہ عنہ قَالَ : بَعَثَنِیَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم’’ اِلَی الْیَمَنِ فَاَمَرَنِیْ اَنْ آخُذَ مِنْ کُلِّ ثَلاَثِیْنَ بَقَرَۃً تَبِیْعًا اَوْ تَبِیْعَۃً وَمِنْ کُلِّ اَرْبَعِیْنَ مُسِنَّۃً ‘‘(رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ) (صحیح) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا اور حکم دیا’’ہرتیس گائیوں پر ایک سال کا بچھڑا یا بچھڑی (جو دوسرے سال کی عمر میں ہو)اور ہر چالیس پر دو سال کا بچھڑا جو تین سال کی عمر میں ہو زکاۃمیں وصول کروں ۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : گائیوں اور بھینسوں کا نصاب اور شرح زکاۃایک ہی ہے۔ مسئلہ نمبر:84 زکاۃکا مذکورہ بالا نصاب اور شرح ان مویشیوں کے لئے ہے جو نصف سال سے زائد عرصہ قدرتی وسائل پر گزارہ کرتے رہے ہوں۔ عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ’’فِیْ کُلِّ سَائِمَۃِ اِبِلٍ فِیْ اَرْبَعِیْنَ بِنْتُ لَبُوْنٍ‘‘ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ) حضرت بہز بن حکیم اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ ہر چالیس اونٹوں میں جو جنگل میں چرنے والے ہوں دو برس کی اونٹنی جو تیسرے سال میں ہو بطور زکاۃادا کی جائے ۔‘‘اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ وضاحت :( 1)وہ مویشی جو مستقل طور پر مالک کے خرچ پر گزارہ کرتے ہوں اور ذاتی استعمال کے لئے ہوں ان پرزکاۃنہیں خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ (2)وہ مویشی جو مالک کے خرچ پر گزارہ کرتے ہوں، لیکن تجارت کی غرض سے پالے گئے ہوں،ان کی آمدنی پرزکاۃواجب ہو گی۔